پاکستان بار کونسل ، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اورپریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ نے سینئر صحافی احمد نورانی کو جان لینے کی دھمکیاں دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ہم آزادی ظہار رائے کے لئے کھڑے ہیں اور اگر اس کے راستے میں کسی بھی قسم کی روک تھام کی کوشش کی گئی تو ہم اس کے خلاف شدید مزاحمت کریں گے، پی بی سی کے وائس چیئرمین عابد ساقی ، ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن ڈاکٹر مہدی حسن اور جنرل سیکرٹری حارث خالق، پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار اور جنرل سیکرٹری ناصر زیدی جبکہ پریس ایسوسی ایشن کے صدر عبد القیوم صدیقی کی جانب سے سوموارکے روزجاری کردہ بیانات میں احمد نورانی کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی پرزور الفاظ میں مذمت کی گئی ہے جس میں ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کے قریبی رشتہ داروں کے کاروبار سے متعلق خبر شائع کرنے پر انہیں ریاست مخالف اور دشمن کا ایجنٹ قرار دیا گیا ہے،بیانات میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی کو احمد نورانی کیخلاف کسی قسم کی کوئی شکایت ہے تو وہ عدالتوں سے رجوع کرسکتا ہے ،وکلاء میڈیا اور سول سوسائٹی کی قیادت نے حکومت سے احمد نورانی کو تحفظ فراہم کرنے اورانہیں یہ دھمکیاں دلوانے والے عناصر کے خلاف تحقیقات کرنے کی اپیل کی ہے، انہوں نے حکومت کو یہ بھی یاد دلایا ہے کہ احمدنورانی پر چند سال قبل بھی بے دردی سے حملہ کیا گیا تھا لیکن آج تک مجرموں کو کسی نے پوچھا تک نہیں ہے ۔مشترکہ بیان صحافی احمد نورانی کو جان سے مارنے کی دھمکیوں، انہیں ریاست مخالف اور دشمن کا ایجنٹ قرار دینے کی مہم کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیاگیا ہے کہ حکومت سینئر صحافی کو تحفظ فراہم کرے اور دھمکیاں دینے والوں کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔

