سینیٹ کمیٹی اطلاعات و نشریات میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز پر دکھائے جانیوالے ڈراموں کی نگرانی اور ایکشن لینے کا کوئی نظام یا اختیار موجود نہیں ، ڈراموں اور گانوں کا سکرپٹ تک نہیں دیکھا جاتا،سرکاری ٹیلی ویژن میں کام کرنے والے ملازمین کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے، کمیٹی نے میڈیا کو انڈسٹری بنانے کیلئے وزارت اطلاعات و نشریات کو کام کرنیکی ہدایت کر دی ہے، سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے ایم ڈی سرکاری ٹی وی سے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ آپ اپنے آفس کے باتھ روم صاف کرا دیں، کمیٹی نے سرکاری ٹی وی اسپورٹس پر چار پانچ گھنٹے تک تجزیہ کرنے اور کھلاڑیوں کیخلاف پروپیگنڈا کرنے پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ سرکاری ٹی وی اسپورٹس پر ایسے پروگرامز کی جگہ سینیٹ کی کارروائی نشر کی جائے۔ بدھ کو ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت ہوا، ایم ڈی سرکاری ٹی وی نے بریفنگ میں بتایا سرکاری ٹی وی بولان بند نہیں ہوا،مالی وسائل کی وجہ سے تمام سینٹر سے کچھ پروگرام ڈراپ کئے گئے تھے، سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا سرکاری ٹی وی صوبوں کو یکساں اہمیت دے ، سینیٹر پرویز رشید نے کہا پیمرا نے آزادی رائے کو برقرار رکھنے کی بجائے کچلنے کی کوشش کی ہے، پرائیویٹ چینلز جن کو لوگ دیکھنا چاہتے ہیں، پیمرا اپنی من مانی کرتے ہوئے اُنکے نمبر تبدیل کردیتا ہے اور کیبل آپریٹر سے کچھ چینلز کو بند بھی کرایا جاتا ہے جبکہ پیمرا کیبل آپریٹرز کو بھی دباؤ میں لا کر چینلز کے نمبر تبدیل کراتا ہے،سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ پیمرا معمولی جرمانہ کر سکتا ہے، چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہیے، چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ میڈیا کو انڈسٹری کا درجہ دیا جائے تا کہ لوگ مستفید ہو سکیں،چیئرمین نے سیکرٹری اطلاعات کومیڈیا کو انڈسڑی کا درجہ دینے کے حوالے سے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دینے کی ہدایت کردی، قائمہ کمیٹی نے پاکستان الیکٹرونک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل 2020 اور پریس کونسل آف پاکستان ترمیمی بل 2020ء کو ترمیم کیساتھ منظور کرلیا ، قائمہ کمیٹی نے پریس کونسل کے چیئرمین کیلئے ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج کی تعیناتی کی بجائے میڈیا،قانون یا سوشل سائنٹسٹ کو کونسل کا چیئرمین بنانے کاا ہل اور پانچ سال کا تجربہ عمر کی زیادہ سے زیادہ حد 60 سال مقرر کرنے اور پریس کونسل میں ایوان بالا کے ممبران میں سے 2 ارکان مقرر کرنے کی شق بھی منظورکی گئی، اجلاس میں میں نجی ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے ڈراموں کے غیر معیاری مواد پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا، سینیٹر صابر شاہ نے کہا کہ بد قسمتی کی بات ہے کہ ہم اپنے اقدار اور روایات کو بھول کر انڈین چینل کی پیروی میں لگ گئے جس سے معاشرے میں بے حیائی اور بے راہ روی کو فروغ ملا، ارکان نے کہا پیمرا کو موجودہ ڈراموں میں غیر اخلاقی کرداروں اور موادکا فوری نوٹس لینا چاہیے، ڈی جی پیمرا نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے پاس نجی چینلز کے ڈراموں کی نگرانی اور ایکشن لینے کا کوئی نظام یا اختیار نہیں ہے، قائمہ کمیٹی نے سرکاری ٹی وی کے پروگراموں، کام کے طریقہ کار اور سرکاری ٹی وی اسٹرکچر کے حوالے سے ان کیمرہ بریفنگ بھی حاصل کی۔

