media samet har shobay mein tarbiyat ahem hai

ایک اخبار نے حذف شدہ الفاظ شائع کردیئے، شبلی فراز

قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ چیرمین سینیٹ اور اسپیکرقومی اسمبلی کی طرف سے کارروائی سےحذف کیے جانے والے الفاظ کو نشر اور شائع کرنے کا معاملے کا نوٹس لے لیا،چئیرمین کمیٹی سینیٹرفیصل جاوید نے کہاکہ حذف کیے گئے الفاظ کو نشرکرنے سے ایوان کا استحقاق مجروح ہوتا ہے،سینیٹرنعمان وزیرنے کہاکہ چئیرمین سینٹ کی جانب سےحذف کردہ الفاظ کوایک اخبار نےبڑی خبربناکرشائع کیا جس پرانہیں معذرت اوراس کی تردید اسی صفحے پرشائع کرنا چاہئے۔وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نےکہاکہ حذف شدہ الفاظ کسی صورت شائع نہیں ہونے چاہیئں۔سیکرٹری اطلاعات اکبردرانی نے بتایاکہ وزارت نے حذف کیے گئے الفاظ کی اشاعت روکنے کیلئے اے پی این ایس اور سی پی این ای کو خط لکھاہے۔سینیٹ قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کےاجلاس میں حکومتی سینیٹر نعمان وزیر نے کہاکہ وزیراعظم کے خلاف الفاظ چیئرمین سینیٹ نے حذف کیے۔ ایک اخبار نے فرنٹ پیج پر حذف شدہ الفاظ شائع کیے،۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہاکہ حذف شدہ الفاظ کسی صورت شائع نہیں ہونے چاہیئں،ڈیلے ٹرانسمیشن کا طریقہ کارہونا چاہیے، اس پر سرکاری ٹی وی اور پیمرا کوبھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ شبلی فرازنے کہاکہ چیرمین سینیٹ سے بات کریں گے اخبار کو تردید چھاپنی چاہیے،حذف شدہ الفاظ کو ایوان سے باہر نہیں نکلنا چاہیے ۔سینیٹرپرویز رشید نےکہاکہ پارلیمنٹ سیشن لائیونشرکرنے کی جدوجہد میں لمبا عرصہ لگا، دنیا میں کہیں ٹرانسمیشن کیلئے ڈیلے مشین کا استعمال نہیں ہوتا،کل ڈیلے ٹرانسمیشن کو کوئی اپنے مقصد کیلئے استعمال کرے گا، پارلیمان کی کاروائی چھپانے سے جمہوریت کمزور ہوتی ہےوہ پارلیمنٹ کی کاروائی کو کنٹرول کرنے کی مخالفت کرتے ہیں،چئیرمین کمیٹی نے کہاکہ دنیا میں لائیو ٹرانسمیشن کے دوران بھی ڈیلے مشین استعمال ہوتی ہے، انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کے خلاف کیا کیا باتیں ہوتی ہیں لیکن سرکاری ٹی وی نشر کرتا ہے، وزیراطلاعات شبلی فراز نے کہاکہ حکومت میڈیا پر کسی قسم کی قدغن لگانے کی خواہاں نہیں، ہم کوئی کاروائی کریں گے تو لوگ کہیں گے میڈیا پر پابندی لگائی جارہی ہے،چیرمین سینیٹ یا اسپیکر جو حکم دیں گے ہم اس پر عمل کریں گے،

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں