facebook ki monetization policy mein khamoshi se tabdeeli

فیس بک کے اشتہارات روکنے والی کمپنیوں کے ساکھ متاثر۔۔

معروف کمپنیوں کی جانب سے فیس بک کا بائیکاٹ کئے جانے کے بعد سوشل میڈیا کی سب سے بڑی کمپنی کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا تاہم اس سے ان کمپنیوں کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اسٹاپ ہیٹ فار پرافٹ (نفع کیلئے نفرت کا پرچار روکو) کے نام سے مہم چلائی گئی اور کمپنیوں پر زور دیا گیا کہ وہ نفرت آمیز خطابات اور غلط معلومات کو روکنے میں ناکامی پر فیس بک کو اشتہار نہ دیں۔ اس مہم کے بعد 90 لاکھ میں سے ایک ہزار کمپنیوں نے عوامی سطح پر فیس بک کے بائیکاٹ کا اعلان کیا جبکہ دیگر کمپنیوں نے خاموشی سے اپنے اشتہارات میں کمی کردی۔ فیس بک کے تجزیاتی پلیٹ فارم پیتھ میٹکس کے مطابق ان 100 کمپنیوں نے فیس بک کو یکم جولائی سے لیکر 29 جولائی تک 25 کروڑ سے زائد کے اشہتارات دیے جو ایک برس قبل دیے گئے اشتہارات سے 12 فیصد کم تھے۔ ان 100 کمپنیوں میں سے 9 کمپنیاں اعلانیہ طور پر فیس بک کے اشتہارات میں کمی کرکے اپنے اخراجات میں 5 لاکھ ڈالر کمی کرچکی ہیں۔ متعدد کمپنیاں جو فیس بک سے دور رہیں اب دوبارہ سے فیس بک پر آنے کی منصوبہ بندی کررہی ہیں کیوں کہ کئی بڑے ادارے اور انفرادی شخصیات اپنی پروموشن کیلئے فیس بک کے پلیٹ فارم پر انحصار کرتی ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں