وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ٹی وی چینلز کو کم ہی وقت دیتے ہیں اور ایسا ہی کچھ سینئر صحافی سہیل وڑائچ کے ساتھ بھی ہوا جنہوں نے سوالات بھی بھیج دیئے تھے تاہم دوسال کا عرصہ بیت جانے کے باوجود کامیابی نہ مل سکی، درمیان میں ایک مرتبہ بتایا گیا کہ تیاری ہورہی ہے ۔روزنامہ جنگ میں سہیل وڑائچ نے لکھا کہ ” وزیراعلیٰ پنجاب انتہائی منصف مزاج ہیں اگر انہوں نے کامران خان جیسے بڑے نام کے ساتھ انٹرویو کا وقت طے کرکے اپنا خیال بدل لیا تھا تو بالکل یہی کام میرے جیسے چھوٹے صحافی کے ساتھ بھی ہو چکا ہے، اسی لئے تو مجھے یقین ہے کہ وہ پرانے بادشاہوں کی طرح انصاف پسند ہیں، جو سلوک کامران خان کے ساتھ ہوا وہی میرے ساتھ بھی ہوا تھا۔ابھی یہ نئے نئے وزیراعلیٰ بنے تھے، دو ملاقاتیں بھی ہوئیں، سوالات بھی بھیجے گئے، بتایا گیا کہ تیاری ہو رہی ہے مگر پھر لمبی چپ اور اب اس معاملے کو دو سال گزر گئے ہیں اس لئے اب میں نے فرضی طور پر تخیل کے اندر ہی وزیراعلیٰ کے ساتھ ایک دن گزارنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اگر حقیقتاً موقع نہیں بھی ملتا تو قارئین کو کم از کم تمثیلی انداز میں ہی پوری تصویر پیش کی جائے”۔انٹرویو کرنے میں کامیابی نہ ملنے پر سہیل وڑائچ نے کالم میں تخیلاتی انٹرویو ہی شیئرکردیا ۔۔

