بلوچی زبان کا واحد نیوز چینل وش نیوز گزشتہ کئی دنوں سے آف ائیر، نشریات بند، بلوچستان کا مکمل بلیک آوئٹ، سینکڑوں صحافی بے روزگارہوگئے۔۔ اطلاعات کے مطابق پاک سیٹ نے وش نیوز کو عدم ادائیگی پر بند کردیا۔۔ وش نیوز نے 2008 میں جب پاک سیٹ کے ساتھ ایگریمنٹ کیا اس وقت ڈالر 67 روپے کا تھا آج ڈالر 170 روپے کے قریب ہے پھر بھی وش نیوز کم بزنس کے باوجود پاک سیٹ کو اسی حساب سے پے منٹ کرتا رہا۔ اس وقت بلوچستان حکومت ،سندھ حکومت اور وفاقی حکومت پر وش نیوز کی بہت بڑی رقم واجب الادا ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں اب نہ تو وش نیوز کو اشتہارات جاری کرتی ہیں اور نہ بقایاجات کو ریلیز کر رہی ہیں جس کی وجہ سے وش نیوز دن بدن مالی مشکلات کا شکار ہے۔ موجودہ حکومت نے ریجنل چینل کے اشتہاراتی ریٹ تین لاکھ روپے سے کم کر کے پچھتر ہزار روپے کردیے ہیں مگر پاک سیٹ حکومتی اداراہ ہونے کے باوجود اپنا ریٹ کم نہیں کرتا جوکہ 2960$ پرمیگاہٹز ہے جبکہ مارکیٹ میں 1900$ پرمیگاہٹز کے ریٹ دستیاب ہیں مگر پاک سیٹ حکومتی قانون کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے کہ تمام ملکی چینلز پاک سیٹ کے علاوہ کسی اور سیٹلائیٹ پر نہیں چل سکتے اور یہ بات بھی عجیب ہے کہ پاک سیٹ پاکستانی پبلک سیکٹر ادارہ ہونے کہ باوجود روپے کی بجائے ڈالر میں کاروبار کرتا ہے آخر کیوں؟ دریں اثنا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے بلوچی چینل ’وش‘ کو بند کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل سے سیکڑوں افراد بے روزگار کرد ئیے گئے ہیں۔پی ایف یوجے کے صدر شہزادہ ذالفقاراور سیکریٹری جنرل ناصر زیدی نے چینل کو بند کرنے کے عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وش ٹی وی واحد ٹی وی چینل تھا جو کہ بلوچی زبان میں پروگرام نشرکرتا تھا وہ بھی بند کردیا گیا ہےاورکہا کہ چینل کو بحال کیاجائے ان کا کہنا تھا کہ عیدالضحیٰ سے پہلے اتنے افراد کو بے روزگار ہونا افسوسناک ہے اور یہ حکومت کی بھی زمے داری ہے کہ وہ اس کا نوٹس لیں۔

