teen saal baad pemra council of complaints punjab faal

نئے ٹی وی لائسنس کی درخواستیں التوا کا شکار۔۔

پیمرا اتھارٹی کا 159واں اجلاس چیئرمین پیمرا محمد سلیم بیگ کی زیر صدارت ہیڈکوارٹرز میں ہوا، اجلاس میں ممبران کو نجی چینل کے لائسنس کی معطلی اورعدالت عالیہ میں ہونے والی کارروائی سے آگاہ کیاگیا۔۔ اطلاعات کے مطابق اتھارٹی نے  نئے ٹی وی چینلز کے اجرا کو ” کی پرفارمنس انڈیکیٹرز” سے منسلک کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے  ریگولیشنز بنانے کا فیصلہ کیا اور تین ممبران کی کمیٹی تشکیل دے دی۔۔ اتھارٹی نے زور دیا کہ کی پرفارمنس اینڈی کیٹرز کے حتمی فیصلے تک  لائسنس کی تمام درخواستوں کو موخر کیاجاتا ہے۔۔ جب کہ اجلاس میں ورچوئل یونیورسٹی کے لائسنس کی پندرہ سال کے لئے تجدید کا بھی فیصلہ کیاگیا۔۔اتھارٹی نے زور دیا کہ وہ تمام لائسنس جو پہلے سے کسی نہ کسی ٹی وی چینل سے منسلک ہیں اور نئے لائسنس لینے کے خواہش مند ہیں انہیں سخت کی پرفارمنس انڈی کیٹرز سے گزارا جائے اور ان کی ماضی کی  کی کارکردگی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے نئے لائسنس کا اجرا کیا جائے، تمام ایسی درخواستوں پر حتمی فیصلہ موخرکیا جاتا ہے جب تک مکمل لائحہ عمل واضح نہیں ہو جاتا، اتھارٹی نے ایک نجی چینل پر ایک مخصوص قومیت کی تضحیک کرنے پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا اور تمام ٹی وی چینلز کو ملک میں بسنے والی تمام قومیتوں کی عزت و تکریم کرنے سے متعلق ہدایت نامہ جاری کرنے کا حکم دیا، اجلاس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ممبر فرح عظیم نے حالیہ دنوں میں ٹی وی چینلز پر پیش کئے جانیوالے ڈراموں اور اُنکے موضوعات کی جانب اتھارٹی ممبران کی توجہ مبذول کرائی جس کی تائید ممبر سندھ صفیہ ملک، ممبر پنجاب فیصل شیر جان اور دیگر ممبران نے کی، اتھارٹی نے متفقہ طور پر مربوط پالیسی سازی کا فیصلہ کیا جو نہ صرف تمام پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر لاگو ہوگی بلکہ سماجی، مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی اقدار کے تحفظ کا ضامن بھی ہوگی۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں