تحریر: آغا خالد۔۔
ہاہاکارمچی ہوئی ہے بعض لوگ 52 گزکی لمبی زبان کاخوب استعمال کرہےہیں اوربعض دیگرکی پوری کوشش ہےکہ ایساکرنےوالوں کی زبان کھینچ کر200سوگزکی کردی جائےتاک زہراگلنےمیں کوئی کسرباقی نہ رہ جائے؟الامان والحفیظ۔۔
میں عاجزی سےپوچھناچاہونگاکہ کیایہ رینجرزانڈیئن تھی جواتنی نفرت کااظہارکیاجارہاہےیاملک پرحکمراں کوئی جنرل ہے اوراسٹیڈیمز میں سرعام جمہوروں کوکوڑےمارےجارہےہیں،ججزسےپی سی اوکاحلف لےلیاگیاہے،جیلیں سیاسی کارکنوں سےبھری پڑی ہیں، بنیادی آئینی حقوق یاآئین معطل ہے،سیاسی سرگرمیوں پرپابندی ہے،صحافت پر بدترین سینسرشپ ہےاورکوئی آمرحکمرانوں کےخلاف لکھ نہیں سکتا،جوایساکرےگاوہ کوڑوں کےلئےتیار رہے،ارے بھائی اللہ کے بندو عقل کے مارو ہمارے رہنمائوں نےجب یہ رسم نبھائی تھی یاتاریخی جدوجہد کی تھی تب ملک پربدتریں فوجی آمریت مسلط تھی اور سیاسی سرگرمیوں پرسخت ترین پابندیاں تھیں تب پریس کلب کواس آمریت کےخلاف اورجمہوریت کی بحالی کےلئے ایک مضبوط پلیٹ فارم کےطورپراستعمال کیاگیاتب بھی ملکی فوج نہیں اس وقت کے آمراورچندجرنیلوں کی اس پالیسی سے نفرت کےاظہارکےطورپر پریس کلب میں کسی وردی والےکاداخلہ بندکیاگیاتھا ذراٹھنڈی لسی کاگلاس پی کر سوچیں کہ اب بھی حالات وہی ہیں 1977 سے2020 کے43 برسوں میں پلوں کےنیچے سےبہت ساپانی گذرچکاہےسیاستداں خودبکائو بن جائیں توبیچارہ پریس کلب کیاکرےگاجب آپ اپنی داڑھی خود چوکیدارکےہاتھ میں دیں گےتو پھرآزادی محدود کئے جانےکارونادھوناچہ معنی دارد؟
کچھ سوچیں حکومتوں کی تبدیلی، اختیارات کی تقسیم، نیب کی تباہ کاریاں، اس وقت میراموضوع نہیں اور ملکی حالات کواس تناظرمیں دیکھنےوالوں سےاختلاف بھی نہیں کہ میں بھی ایک پاکستانی ہوں مگر چندافرادکےکردارکی سزاپورے ادارے کونہیں دی جاسکتی یہی وہ لکیر ہےجوپریس کلب کےاصل وارث اورآمرحکمرانوں کےدرمیاں کشمکش کاباعث رہی ہے ذراایک لسی کاگلاس اور چڑھاکرسوچیں کہ کیاہماری صفوں میں کالی بھیڑیں نہیں ہمارے کچھ ساتھی دہشت گردوں سےرابطوں اوران کاحصہ نہیں رہےوہ پکڑے بھی گئےالزامات ثابت بھی ہوتےرہےمگرہمارےلیڈروں کےدبائو اورکچھ اداروں کی مٹی پائوپالیسی کی وجہ سےوہ رہابھی ہوگئےاورسزائوں سےبھی بچ گئے مگرکیاہمارےضمیرکی عدالت نےانہیں بری کردیاہے۔۔؟
توجب ہماری اپنی صفوں میں عبداللہ بن ابی موجود ہیں تودوسروں سےکیاگلہ؟؟ایک بارپھر سنجیدگی سےسوچئےگاکہ کیارینجرزپریس کلب پرقبضہ کرنےآئےتھے، انھوں نےکسی ممبریاعہدیدارسےبدتہذیبی کی،واقعی ملک دشمنوں اوردہشت گردوں کی حملوں کی دھمکیاں نہیں ہیں،گزشتہ کئی روزسےرینجرزپولیس شہرکےمختلف حساس مقامات پراس طرح کی ریہل سل نہیں کرہی، پریس کلب پرریہل سل بھی اسی کاحصہ ہےتوپھر ہاہاکار کیوں؟پشاور سمیت ملک کے کئی پریس کلبوں پردہشت گردوں نےحملےنہیں کئے،صحافیوں کوقتل نہیں کیا،ان کودھمکیاں نہیں دی گئیں، بےجا شوروغوغاکرنےوالےکیوں بھول جاتےہیں کہ اگرخدانہ خواستہ میرے منہ میں خاک کراچی پریس کلب پرحملہ ہواتوذمہ دارکون ہوگاکیاصحافی برادری کاتحفظ کوئی جرم ہے ہمیں ان کے پالیسی سازوں کی پالیسیوں سےاختلاف سہی مگرمذکورہ اقدام سےنفرت کاشاخسانہ کیاہوسکتاہے؟ ایسےمیں جب ملک کےخلاف ہتھیاراٹھانےوالوں کی پہلی کوشش دنیاکواپنی طرف متوجہ کرناہے جس کے لئےانھوں نےچندہفتےقبل ہی کراچی اسٹاک ایکچینج پرناکام حملہ کیاتوکیاان کاآسان ٹارگٹ پریس کلب نہیں ہوسکتاجوبین الاقوامی خبربن جائےگی اوران کےلئےاس سےبہتراورکیاہوسکتاہےکہ ہمارے کلب کےگیٹ پرخالی ہاتھ للو بٹھائے ہوئےہیں،توہماری حفاظت کےلئےاگرکسی کوترس آہی گیاہےتوخدارا اسے سنجیدگی سےلیں اوربلاوجہ اسےایشونہ بنائیں ایک بارپھر دل پرہاتھ رکھ کرسوچئےگاپریس کلب پررینجرزکےحملے،پریس کلب میں رینجرزگھس گئی، جیسی خبروں پربھارت میں کیاردعمل ہواہوگااورکیسے ان کے اینکرز رات سے بغلیں بجاکرڈھول پیٹ رہےہیں یہ کونسی حب الوطنی ہے یار۔۔(آغاخالد)۔۔

