police headquarter se cameraman ki bike chori

گرفتار کیمرہ مین کو بچانے کیلئے بلیک میلر ٹولہ سرگرم۔۔

کمسن بچی سے زیادتی کے الزام میں گرفتار سندھی نیوزچینل کے ٹی این کے کیمرہ مین کو بچانے کے لئے بلیک میلر ٹولہ سرگرم ہوگیا۔۔تفصیلات کے مطابق پپو نے انکشاف کیا ہے کہ حیدرآباد میں  گیارہ سالہ بچی سے جنسی زیادتی کیس میں گرفتار ملزم کے ٹی این  کا کیمرہ مین تفتیشی رمانڈ پر پولیس حراست میں  ہے اور کے ٹی این کے رپورٹرز اور چند اردو چینل کے نام نہاد رپورٹرز اسے بچانے کے لئے میدان میں اتر آئے ہیں اور ورثا پرمقدمہ واپس لینے کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کردیا ہے اور مقدمہ واپس نہ لینے کی صورت مستقبل میں سنگین نتائج  کی دھمکیاں دی جارہی ہیں جبکہ پولیس پر بھی دباؤ ڈالاجارہا ہے جس میں سرفہرست کے ٹی این  کے این ایل ای ہیں جو شہر میں خود کو کے ٹی این  کے رپورٹر بتاتے ہے اور کیمرہ مین کیساتھ ملکر بلیک میلنگ کا دھندا بھی کرتے ہیں۔۔ پپو نے سوال کیا ہے کہ اگر معصوم بچی کیساتھ جنسی زیادتی کا کیس کسی پولیس افسر عام شہری یا کسی سیاستدان نے کیا ہوتا تو میڈیا نے آسمان سر پر اٹھالیا ہوتا اور صلح کے معاملے پر چیخ چیخ کر اپنی عدالت لگاچکے ہوتے اب جب کہ ایک کیمرہ مین اس گھنائونے کھیل میں پکڑا گیا ہے تو اب زبان بندی ہے۔۔ پپو نے انکشاف کیا ہے  کہ بچی کے ورثا پر راضی نامے اور صلح کیلئے شدید دباؤ ڈالا جارہا ہے۔۔ پپو کا یہ بھی کہنا ہے کہ  غریب ورثا کو مقدمہ درج کرنیوانے میں ایک صحافی کی ہی  بھرپور سپورٹ حاصل رہی جس نے یہ پتہ ہوتے ہوئے بھی کہ انکا اپنا دوست ملوث ہے  کوئی  رعایت نہیں کی اور مقدمے کے اندراج تک تھانے پر موجود رہے جبکہ کیمرہ مین کو چھڑانے کے لئے چند اردو چینل کے رپورٹرز بھی وہاں موجود رہے  جو پولیس کومبینہ  دھمکیاں دیتے رہے۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں