pakistani sahafion ko azadi honi chahiye

میڈیا پر پابندیوں سے آگاہ ہیں، امریکا۔۔

پاکستان میں میڈیا پر پابندیوں اور صحافیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کرنے والے کسی کے سامنے جوابدہ نہیں اور یہ صورتحال تشویشناک ہے جو اظہار رائے کی آزادی اور پرامن معاشرہ کیلئے بھی بڑی نقصان دہ ہے۔یہ بات نمائندہ جنگ/جیو کےسوال کے جواب میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے کہا کہ (امریکی محکمہ خارجہ) میڈیا اور پاکستان کی سول سوسائٹی پر اہم پابندیوں کی رپورٹس سے آگاہ ہے، ایک متحرک و مضبوط پریس اور باخبر شہری کسی بھی آزاد قوم کیلئے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔امریکی ترجمان نےیہ بھی کہاہے کہ ’’ہمیں اس بات پر تشویش ہے کہ میڈیا اور اس کے مواد پر پابندیوں کے علاوہ صحافیوں پر حملے کرنے والوں کا احتساب بھی نہیں ہو رہا یہ صورتحال رائے کے اظہار کی آزادی، پرامن اجتماعات اور پرامن تنظیم سازی کی آزادیوں کیلئے نہ صرف نقصان دہ ہے بلکہ پاکستان کے امیج کے نقصان کا باعث بھی ہے‘‘۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے پاکستان میں پریس کی آزادی اور صحافیوں کے ساتھ کئے جانے والے ناروا سلوک اور غیراعلانیہ پابندیوں کی صورتحال پر کئے جانے والا تبصرہ مختصر اور مؤثر ہونے کے علاوہ پاکستان میں صحافیوں اور پریس کی آزادی بارے بہت سے حقائق کی نشاندہی کرتا ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور آزاد صحافت کے تحفظ کیلئے سرگرم عالمی تنظیمیں پاکستان افغانستان اور سنٹرل ایشیا امور کی سربراہ ایلس ویلس بھی پاکستان میں آزادیٔ صحافت کی حمایت میں کچھ عرصہ قبل اپنے مؤقف کا اظہار کر چکی ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں