سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس پارلیمنٹ لاجز میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں وزیراعظم پاکستان کے خلاف نازیبا الفاظ سرکاری ٹی وی پر نشر ہو نے پر سختی سے نوٹس لیاگیا اور کہا کہ حذف کئے گئے الفاظ نشر ہو رہے ہیں۔ سرکاری ٹی وی ریاست کا ترجمان ہے۔ مناسب کوریج سب کا حق ہے لیکن کسی کی تضحیک کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا۔کمیٹی نے اس معاملے پرایم ڈی پی ٹی وی سے جواب طلب کر لیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا ملازمین کے فارغ ہونے کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں جسے کمیٹی میں زیر غور لایا جائے گا۔سینیٹر پرویز رشید نے تجویز دی کہ پارلیمنٹ کا اپنا چینل ہونا چاہیے جس پر پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کے بارے میں نشریات چلتی رہیں،انہوں نے کہاکہ میڈیا کو ہر حال میں آزاد رہنا چاہیے،مطیع اللہ جان کے اغواء بارےمتعلقہ اداروں سےجواب طلب کیاجائے جبکہ مطیع اللہ جان کو بھی مدعو کیا جائے تاکہ وہ اپنا نقطہ نظر کمیٹی کے سامنے پیش کر سکیں۔اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید کے پیش کردہ بل پیمرا ترمیمی بل2020 کو بھی زیر غور لایا گیا ۔ تاہم کمیٹی نے متفقہ فیصلہ کیا کہ تمام ممبران کی موجودگی میں بل کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔لہذا بل پر بحث کمیٹی کے اگلے اجلاس تک موخر کر دی گئی۔

