سرکاری ٹی وی سخت مالی مشکلات سے دوچار ہے اور اس پر 81 کروڑ 35لاکھ روپے کے واجبات ہیں۔ اس حوالے سے پاک سیٹ انٹرنیشنل نے کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے، واجبات ادا کرنے کیلئے 10 اگست تک کی مہلت دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، سرکاری ٹی وی سخت مالی مشکلات سے دوچار ہے کیوں کہ 30جون، 2020تک پاک سیٹ انٹرنیشنل کو اس کے واجبات 48لاکھ 54ہزار ڈالرز (تقریبا 81کروڑ 35لاکھ روپے) سے زائد ہوچکے ہیں۔ پاک سیٹ انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورت حال ناقابل برداشت ہے لہٰذا وہ سرکاری ٹی وی کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے۔ اس نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ صورت حال پیدا نہیں ہوگی۔ اس ضمن میں واجبات کی ادائیگی کے لیے پاک سیٹ انٹرنیشنل 10 اگست، 2020 تک کی ڈیڈ لائن دے چکا ہے۔ صارفین سے معقول رقم لینے کے باوجود سرکاری ٹی وی کے مالی حالات بگڑتے جارہے ہیں، حال ہی میں کابینہ نے سرکاری ٹی وی کی فیس 35 روپے سے بڑھا کر 100 روپے کردی ہے جو بجلی کے بل کے ساتھ ہر ماہ آرہی ہے۔دوسری جانب نجی میڈیا بھی مالی مسائل سے دوچار ہے اور حکومت نے اب تک ان کے واجبات ادا نہیں کیے ہیں۔ پاک سیٹ انٹرنیشنل کے سی ای او کی جانب سے سیکرٹری اطلاعات و نشریات اکبر حسین درانی اور سرکاری ٹی وی کے ایم ڈی کو خط لکھا گیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ پاک سیٹ انٹرنیشنل سپارکو کی مارکیٹنگ کمپنی ہے جو کہ پاکستانی کمیونیکیشن سیٹیلائٹ کی خدمات فروخت کرتی ہے۔ جب کہ واجبات کی ادائیگی نا ہونے کے سبب اس کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔

