پاکستان ٹیلی ویڑن کارپوریشن کے مینجنگ ڈائریکٹر عامر منظور نے ٹی وی لائسنس فیس کے حوالے سے وضاحت کردی ۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیلی ویڑن کا اہم قومی کردار غیر تجارتی نوعیت کا ہے، شہریوں سے لیا جانے والا ٹیکس ٹی وی سیٹ رکھنے اور نشریات موصول کرنے کی صورت میں وصول کیا جاتا ہے۔جیو نیوز کے مطابق عامر منظور کا کہنا ہے کہ یہ فیس ٹی وی سیٹ رکھنے پر چارج ہوتی ہے اس کا پی ٹی وی کی نشریات دیکھنے سے تعلق نہیں۔ان کاکہنا ہے کہ پی ٹی وی کے اسلام آباد،لاہور،کراچی،پشاور،کوئٹہ ،ملتان اور مظفر آباد میں سینٹرز کام کررہے ہیں جو اتنے محاصل پیدا کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے کہ اپنے تمام منصوبوں کے اخراجات پورے کرسکیں۔واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے پی ٹی وی فیس بڑھانے کی منظوری دے دی۔ بجلی بلوں میں 35 کے بجائے 100 روپے وصول کئے جائیں گے۔وفاقی حکومت نے پی ٹی وی کی فیس 65 روپے بڑھانے کی منظوری دےدی، بجلی کے بلوں میں پی ٹی وی کی فیس 35 روپے سے بڑھ کر 100 روپے ہوجائے گی۔ذرائع کے مطابق حکومت نے وفاقی کابینہ سے پی ٹی وی فیس بڑھانے کی منظوری بذریعہ سرکولیشن لی، فیصلے سے صارفین پر سالانہ 21 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا، حکومت صارفین سے پی ٹی وی کی فیس بذریعہ بجلی بل وصول کرتی ہے۔

