تحریر: جاوید صدیقی۔۔
دنیا میں واحد پاکستان وہ ملک ہے جس میں میڈیا انڈسٹری مکمل طور پر دجالی فتنوں پر مشتمل ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک نجی میڈیا انڈسٹری میں کسی طور نہ نظم و ضبط قائم رہا اور نہ ہی قاعدے قوانین پر عملدرآمد دیکھا گیا پاکستانی میڈیا میں تمام کے تمام مالکان سیٹھ ہیں ایسی لیئے ان کا نظریہ ہے دولت کماؤ اور چینل بناؤ اور صحافی تنظیموں کے مخصوص لوگوں کو نوازتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرو اور کچھ مڈل مین جنہیں عام زبان میں دلال کہتے ہیں ان میں کسی کو بڑے عہدے اوراختیار دیتے ہوئے سی او او، ایس ای وی پی یا وی پی اور بی سی بنا کر ان سے ہی اپنے جائز ناجائز کام کروانا اور تمام الزام انہی پرعائد کردینا تاکہ خود شفاف رہ سکیں۔ لیکن یہ بھول چکے ہیں کہ اللہ کی پکڑ بھی ہوتی ہے ابھی ایک میڈیا سیٹھ کئی مہینے سے نیب کی جیل میں ہے جو باہر ہیں وہ ہوش کے ناخن لیں کہ وہ بھی اللہ کی گرفت میں آسکتے ہیں ناجائز دولت کے آئینہ سے دیکھنے والے گھٹیا لوگ ہوتے ہیں اپنے تصدیق اور یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ریاست پاکستان کو جس قدر ان چینلز نے تباہ کیا ہے کسی اور نے نہیں کیا، ہر ایک چینل کسی نہ کسی طاقتور سیاسی و غیر سیاسی سائے تلے رہتا ہے اور کچھ لو کچھ دو اور ہم یہاں تم وہاں کے زمرے کے تحت کام کرتے آرہے ہیں، موجودہ حکومت نے کس چینل سے مکمل میڈیا سیل کے طور پر فائدہ حاصل کیا سابقہ نون لیگ کی حکومت نے بھی کس چینل کو اپنا بنائے رکھا یوں تو یہ ایک طویل فہرست ہے کس کس چینل کا نام تحریر کریں عوام سب جانتی ہے۔ سب سے پہلے پیمرا کو آزاد خود مختیار بنایا جائے یا پھر اس ادارے کو ختم کردیا جائے کیونکہ یہ ادارہ مکمل سیاسی ادارہ گزشتہ بارہ سالوں سے بنا ہوا ہے، اینٹی کرپشن ادارے کی طرح کرپٹ اور بدعنوان بنا ہوا ہے۔ برسوں سے قائم صحافی تنظیموں اور پریس کلبوں نے ممکن ہے آج سے ستر پچھتر سال قبل شدید سرگرم خونی تحریک چلائی ہوں مگر جب سے میڈیا میں نجی انڈسٹری کو موقع دیا تو انھوں نے تنظیمی عہدیداروں اور کلبوں کو اپنے غلام بناکر ہزاروں صحافیوں کا معاشی قتل کرڈالا جو جاری و ساری ہے۔ دجالی میڈیا مالکان کی سرخرو کیلئے اینکرز لائن میں لگ گئے اور ان کے کالے کرتوت کی وکالت کرتے تھکتے نہیں یقینا یہاں ضمیر اور عزتیں فروش چند ٹکوں میں مل جاتے ہیں دنیا کی عیش و عشرت اور ریا کاری کی خاطر سچ و حق ان کی زبان سے نکل نہیں سکتا یہی لوگ دجال کے سہولتکار ہیں، سپریم کورٹ بھی میڈیا مالکان اور اینکرز سے خوف کھاتے ہیں کیوں نہ کھائیں جب ریاست کے چلانے والے اور منتخب کرنے والے بھی ان دجالی میڈیا مالکان کے بلیک میلنگ سے ڈرتے ہیں تو گویا ہم اس قدر بد قسمت ہیں کہ ہمارے ملک کو چاروں اطراف دجالی فتنوں نے گھیر رکھا ہے ہمیں ان دجالوں کے شر اور فتنوں سے بچنے کیلئے لازمی ہے کہ ہمارے سپریم کورٹ اور ریاست کو دجالی فتنے میڈیا کو لگام دینا اس کا محاسبہ کرنا اور احتساب کرنا پاکستان کی بقا کیلئے لازمی ہے اگر ہماری مخلص اور محب الوطن قوتوں نے دیر کی تو نا تلافی نقصان سے دوچار ہونا پڑیگا۔ پہلے ہی ہم ایک بازو کٹا کر بیٹھے ہیں ہم عوام کو متحد ہوکر ان دجالی فتنوں کا محاسبہ ناگزیر ہوچکا ہے۔۔( جاوید صدیقی، جرنلسٹ، کالمکار، تجزیہ نگار)۔۔

