پاکستان کے نجی بین الاقوامی انگریزی چینل ” انڈس نیوز “ سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی کے ساتھ لاہور کی معروف شاہراہ حسین چوک پر نہایت ہی افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب دو مردوں نے ان کی گاڑی کو اپنی گاڑی آگے لگا کر روک لیا اور ہراساں کیا جبکہ اس کے علاوہ ایک موٹر سائیکل سوار ان کا پیچھا بھی کرتا رہا۔تفصیلات کے مطابق خاتون صحافی نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے اس تمام صورتحال کا احوال بتایا اور ساتھ میں ایک موٹر سائیکل سوار کی تصویر بھی شیئر کی جو کہ ان کی طرف گاڑی میں دیکھ رہا تھا ۔خاتون صحافی کا کہناتھا کہ ”حسین چوک پر میں نے رک کر دو مردوں سے بات کرنے سے انکار کر دیا تو انہوں نے اپنی گاڑی کے ذریعے میری گاڑی کو بلاک کرتے ہوئے تماشا لگا دیا اور اس کے علاوہ ایک اور موٹر سائیکل سوار مسلسل پانچ منٹ تک میرا پیچھا کر تا رہا اور اس وقت باز آیا جب میں نے اس کی تصویر بنا لی ۔خاتون صحافی کا کہناتھا کہ ”میں گاڑی کی تصویر بناناچاہتی تھی لیکن میں مسلسل گاڑی کا ہارن بجا رہی تھی اور ایک پولیس والے نے مداخلت کی اور انہیں میرے راستے سے ہٹایا ، یہ واقعہ ایک نہایت مصروف سڑک پر پیش آیا ، خواتین کو ڈرانا اور ہراساں کرنا مردانہ نہیں بناتا بلکہ آپ کو مزید گندا بنا تا ہے ۔انہوں نے کہا کہ” یہ بات مجھے حیران کر دیتی ہے کہ مرد عوامی جگہوں پر خواتین کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں اور وہ بھی صرف اس لیے کیونکہ وہ کر سکتے ہیں اور اس لیے بھی کہ وہ اس سے کچھ سنسنی کر سکتے ہیں ، تعاقب کرنے سے کوئی بھی خاتون آپ پر فدا نہیں ہو گی ۔

