خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری اشتہارات کمیشن سکینڈل میں برطرف صوبائی مشیر اطلاعات اجمل وزیر کی لیک شدہ آڈیو فرانزک ٹیسٹ کیلئے بھجوادی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا مشیر اطلاعات کی مبینہ بدعنوانی کامعاملہ تحقیقات کیلئے ممکنہ طور پر اج محکمہ اینٹی کرپشن یا ایف آئی اے کو ارسال کریں گے جس کے بعد انکوائری کمیٹی کا باضابطہ اعلان ہوگا، وزیر اعلیٰ نے ابتدائی طور پر چیف سیکرٹری کو تحقیقات کی ہدایت کی تھی تاہم صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چیف سیکرٹری کابینہ کے کسی رکن کے خلاف انکوائری نہیں کرسکتے اس لئے وزیر اعلیٰ آج معاملہ اینٹی کرپشن یا ایف آئی اے سمیت کسی بھی تحقیقاتی ادارے کو ارسال کرسکتے ہیں۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے اشتہاری ایجنسی کے مالک سے صوبہ کے سرکاری اشتہارات میں کمیشن طے کرنے کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صوبائی مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ اجمل وزیر کو فوری طور پر ان کے عہدہ سےبرطرف کرتے ہوئے ان کیخلاف انکوائری کا حکم دیا تھا، ذرائع کے مطابق اجمل وزیر کیخلاف اس کارروائی سے قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے وزیراعظم عمران خان کو تمام ثبوت پیش کردیئے تھےجس کے بعد انہوں نے اجمل وزیر کو ہٹانے کی باقاعدہ منظوری دی تھی، ا صوبائی حکومت نے برطرف مشیر اطلاعات اجمل وزیر کی آڈیو فرانزک ٹیسٹ کیلئے فرانزک سائنس لیبارٹری بھجوادی ہے،جس کی رپورٹ میں اس آڈیو کے اصلی یا جعلی ہونے کی تصدیق ہوجائیگی، ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ معاملہ اینٹی کرپشن یا ایف آئی اے کو ارسال کرسکتے ہیں جبکہ کمیٹی میں دوسرے سرکاری محکموں کے افسران کی شمولیت بھی متوقع ہے، ذرائع کے مطابق چیف سیکرٹری نے صوبہ کے اطلاعات کے سابق سیکرٹریز کو آج بلایا ہے جن کیساتھ اس معاملہ پر مشاورت ہوگی۔

