عمران جونیئر ڈاٹ کام پر اس خبر کے بعد کہ شکار پور صحافیوں کے خطرناک بن گیا۔۔ خبر میں سندھی اخبار کے رپورٹر کے بیٹے اور بھیتجے کے اغوا اور عدم بازیابی کا بھی ذکر کیا گیا۔۔ اطلاعات کے مطابق ایک ماہ میں شکارپور کے ایک ہی علاقے کے دو سینئرصحافیوں کے ساتھ خطرناک واقعات پیش آچکے ہیں ایک ہفتے قبل چک کے علاقے میں سندھی اخبار کے رپورٹر گلزار سیٹھار کے 14سالہ بیٹے اور 16سالہ بھتیجے کو اغواء کرلیا گیا اسی علاقے میں اماہ قبل کوشش اخبار کے رپورٹر اور شکارپور یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر جمیل مہر پر قاتلانہ حملہ ہو جس میں وہ شدید زخمی ہوئے ان دونوں واقعات کے بعد شکارپور کے صحافیوں میں بے چینی پائی گئی شکارپور سمیت اندورن سندھ میں صحافیوں کے احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔۔پھر اچانک ڈرامائی انداز میں صحافی گلزار سیٹھار کے بیٹے اور بھتیجے کو بازیاب کروالیا جاتا ہے مگر اغواء کاروں کا پتہ نہ چل سکا کہ کس نے اغواء کیا اور کیوں کیا پولیس کی جانب سے بھی کوئی معلومات نہ مل سکی دوسری جانب ایک ماہ سے پولیس شکارپور یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر جمیل مہر پر حملہ کرنے والےملزمان کو گرفتار کرنا تو دور پتہ بھی نہ لگاسکی کہ جمیل مہر پر حملہ کس نے کیا جس کی وجہ سے شکارپور کے صحافیوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔۔

