کورونا وائرس کی وجہ سے اے آر وائی نیوز کے ہیڈآفس میں بڑی تعداد میں ورکرز کے ٹیسٹ پازیٹیو آنے کے بعد اے آر وائی میں افرادی قوت کی شدید کمی پڑ گئی جس کی وجہ سے فوری طور پر تمام صحت مند کارکنوں کی چھٹیاں وقتی طور پر منسوخ کردی گئیں۔۔ پپو نے انکشاف کیا ہے کہ اے آ روائی نیوز کا مارننگ شو باخبر سویرا بھی وقتی طور پر بند کردیا گیا ہے، اور اس کی ٹیم کو نیوز روم منتقل کردیاگیا ہے، مارننگ شو کے پہلے اینکر شفاعت اور بعد میں ان کی جگہ لینے والے فیصل کریم دونوں ہی کورونا پازیٹیوکاشکارہوگئے، جب کہ اس کے پرڈیوسر بھی کورونا پازیٹیو آئے ہیں اور یہ سب کوارنٹائن ہوگئے۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ اب تک اے آر وائی نیوز میں جتنے کارکنوں کے کورونا ٹیسٹ ہوئے ہیں، ستر فیصد کے قریب ورکرز کا پازیٹیو آیا ہے، پیر کے روز عمران جونیئر ڈاٹ کام پر اس خبر کے بعد کہ اے آر وائی نیوز میں کورونا پازیٹیو سے کام کرایاجارہا ہے، فوری طور پر انتظامیہ نے نوٹس لیا اور تمام پازیٹیو ورکرز کو چھٹی دے کر گھروں کو بھیج دیا۔۔ پپو کی اس خبر کے نیچے اے آر وائی کے کچھ لوگوں نے کمنٹس کرکے خبر کو غلط قرار دینے کی کوشش کی لیکن پپو جانتا ہے کہ وہ بیچارے نوکری کے ہاتھوں مجبور تھے اس لئے شاہ کی وفاداری میں یہ کمنٹس کرڈالے۔۔پپو نے کمنٹس کرنے والے شاہ کے وفاداروں کو بتایا ہے کہ خبر میں اتوار کی ایوننگ شفٹ میں پازیٹیو ورکرز کے کام کرنے کی نشاندہی کی گئی تھی، اب یا تو شاہ کے وفادار بہت معصوم ہیں یا پھر لاعلم کہ انہیں یہ تک نہیں پتہ کہ ان کے اپنے آفس میں کون کورونا پازیٹیو ہونے کے باوجود ڈیوٹی کررہا ہے۔پپو نے شاہ کے وفاداروں کمنٹس کرنے والوں کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ وہ ذرا پتہ کریں کہ اتوار کے روز، ایف ٹی پی پر کون تھا،کیا اسے کورونا پازیٹیو نہیں ؟ رات بارہ بجے کی ہیڈلائن کس نے بنائی؟ کیا اسے کورونا پازیٹیو نہیں تھا؟ رات بارہ کے پیکجز کس این ایل ای نے بنائے ؟ کیا اسے کورونا پازیٹیونہیں تھا، پی سی آر میں ڈیوٹی پر کون تھا؟ کیا اسے کورونا پازیٹیو نہیں تھا؟ ایسی مزید مثالیں ہیں ،فی الحال وہ صرف ان کا پتہ کرلیں تو کمنٹس کرنے والے تمام شاہ کے وفاداروں کو خبر کی وجہ سے لگنے والے موشن بند ہوجائیں گے۔۔پپو کا مزید کہنا ہے کہ انتظامیہ کا رویہ اب بھی بےرحمانہ اور بےحسی پر مبنی ہے، ملازمین کے حقوق کا کوئی خیال نہیں کیا جا رہا، ۔۔ تمام ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور انہیں جبری ڈیوٹی پر مجبور کیا جا رہا ہے، جو ملازمین بیمار ہیں یا کورونا کی ابتدائی علامت کا شکار ہیں ان کو بھی زبردستی کام کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے، انتظامیہ یہاں تک کہتی ہے کہ پینا ڈول کھا کر ڈیوٹی پر آئیں، وہ دفتر جو اتنے کیسز کے بعد سیل ہوجانا چاہئے یا ڈس انفیکڈ کیا جانا چاہئے، وہیں میڈیا ورکرز فرائض سر انجام دینے پر مجبور ہیں، یہ صورت حال ایک ایسے میڈیا آفس میں ہے جہاں سے ملازمین کے بنیادی حقوق کی آواز بلند کی جاتی ہے لیکن چراغ تلے اندھیرا کے مصداق اسی آفس کے ملازمین اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔۔پپو نے یہاں پر چینل کے مالک کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے ہماری خبر کا سخت نوٹس لیتے ہوئے نیوزروم کے بڑے صاحب کی سرزنش کی جس کے بعد کورونا پازیٹیو والے ورکرز کو فوری طور پر رخصت پر گھر وں کو بھیج دیاگیا اور مارننگ شو بھی وقتی طور پر بند کردیاگیا۔۔

