تحریر: علی عمران جونیئر۔۔
بلیک میلنگ ، اندھادھند کمائی، عیاشیاں، صحافت کی آڑ میں جھوٹے کوسچا اور سچ کو جھوٹ بنادینا، جب میڈیا میں آیا تو کیا حالات تھے اب اس کے بینک اکاؤنٹس اور اثاثے کیا ہیں؟؟ کسی کو ایسے معاملات سے کوئی غرض نہیں لیکن جب ایسا بندہ کہیں ملازم ہواورشکایات ملنے لگے لیکن پھر بھی اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے تو با آسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ بندہ چینل مالک سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔۔یہ معاملہ کیا ہے چلیں، آپ کو بتاتے ہیں کہ ایسا کون سا ملازم ہے جو اپنے ہی مالک سے زیادہ اختیارات اور طاقت رکھتا ہے اور اس کا کوئی بگاڑ نہیں سکتا۔۔
پپو نے کہانی شروع کرتے ہوئے بتایا کہ یہ وہی بندہ ہے جب وہ این بی سی (چینل، جو بعد جاگ اور اب جی این این ہے) میں ملازم تھا تو وہاں بھی کرائم شو کرتا تھا، ایک پروگرام اس نے کرلیا، پھر اچانک اپنے سینئر عرفان الحق کو کہا کہ یہ پروگرام آن ائر نہ کرنا کیوں کہ مجھے دھمکیاں مل رہی ہیں، سینئر نے کہا، دھمکیاں ہمارے کام کا حصہ ہے،فکر نہ کرو، اپنے رپورٹرز کو بتادو وہ یہ معاملہ دیکھ لیں گے، لیکن وہ بندہ بضد رہا کہ پروگرام نہ چلانا ، لیکن سینئر نہ مانا، جب تحقیقات کی گئی تو پتہ چلا کہ ” وٹ پکڑ” کرلی اس بندے نے،اسی لئے وہ پروگرام آن ائر نہیں چاہتا۔۔ سینئربھی اڑ گیا کہ چینل کا خرچہ ہوا پروگرام تو چلے گا تو ٹیکنو سٹی کے مین گیٹ پر اس نے اپنے سینئر کے ساتھ ہاتھا پائی کی اور بدتمیزی کی، سینئر اوپر آفس گیا اور رپورٹ کردی چینل انتظامیہ نے اسے ہاتھوں ہاتھ فائر کردیا۔۔ پھر اس بندے نے رخ کیا ابتک نیوز کا۔۔۔
ابتک نیوز میں پروگرام خفیہ عرصہ دراز سے چل رہا ہے، فارمیٹ وہی کہ چھاپہ مارو، سنسنی پھیلاؤ، پروگرام چلادو۔۔ چلو معاملہ اس حد تک رہے تو سمجھ آتا ہے کہ معاشرے کی برائیاں بے نقاب ہورہی ہیں، لیکن جب پروگرام ریکارڈ بھی کرو، چلاؤ بھی نہیں اور پیسے بھی پکڑ لو، تو یہ سراسر زیادتی اور کرپشن ہے۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ وہ ایسے کئی معاملات ذاتی طور پر جانتا ہے جس میں بلیک میلنگ کرکے پارٹیوں سے پیسے وصول کئے گئے، پپو نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ باغ کورنگی میں ایک عامل کے آستانے پر کال گرل پہنچا کر شراب برآمد کرائی پھر عوامی کالونی تھانے میں بیٹھ کر اس سے ڈیل کی گئی، کورنگی میں ہی ایک عطائی ڈاکٹر سے دس لاکھ روپے ڈیمانڈ کئے گئے۔۔ اسی طرح نسیم سینما کورنگی پر چھاپے والا معاملہ ہے جس میں ٹھیک ٹھاک “پیدا” کی گئی۔۔ پپو نے اس طرح کے درجنوں واقعات بتائے جس میں بلیک میلنگ کرکے پیسہ کمایاگیا۔۔ تحریر کی طوالت کی وجہ سے ہم ساری تفصیل فی الحال نہیں دے رہے۔۔
پروگرام خفیہ اس بار پھر ایک دم سوشل میڈیا کی زینت بن گیا لیکن اس بار اس کی کوئی وائرل وڈیو یا بلیک میلنگ نہیں بلکہ اس کی اینکر کا استعفا تھا جو سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں شیئر کیاگیا اور وائرل ہورہا ہے۔۔پروگرام کی خاتون اینکر نے اپنے استعفے میں پرڈیوسر پر ایسے الزامات لگائے جس کا نہ صرف چینل مالک بلکہ متعلقہ اداروں کو بھی نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔۔استعفے کے متن کے مطابق خاتون اینکر نے چینل میں اپنی ملازمت کا آخری دن آٹھ جون دوہزار بیس بتایا۔۔ استعفے کی وجوہات میں اینکر نے لکھا کہ ۔۔ استعفے کی سب سے بڑی وجہ پرڈیوسر کا رویہ اور غیرپیشہ وارانہ سلوک ہے، پرڈیوسر نہ صرف ہراساں بلکہ جنسی ہراساں بھی کرتا رہا۔۔متن کے مطابق اینکر نے یہ سارے معاملات زبانی اور تحریری طور پر چینل مالک کو بتائے لیکن کوئی نوٹس نہیں لیاگیا، دو جون کو بھی ایسی ہی ایک حرکت ہوئی تو چینل مالک کو فوری فون پر آگاہ کیا لیکن اس پر بھی کوئی ایکشن نہیں لیاگیا۔۔ مزید لکھا گیا ہے کہ پرڈویسر نے ہمیشہ اپنے اختیارات اور چینل کے نام پر، چھاپوں کے وقت اور پروگرام کے بعد مجرموں کو بلیک میل کیا اوربلیک میلنگ سے ملنے والی رقم میں مجھے(اینکر) کو بھی حصہ دار بنانے کی کوشش کی لیکن میں نے انکار کردیا۔۔ پرڈیوسر کہتا تھا کہ جو میری بیڈ بک میں ہوگا اس کے ساتھ کبھی بھی کچھ ہوسکتا ہے، دشمنی مہنگی پڑتی ہے۔۔ متن کا مطابق پرڈیوسر نے تیزاب سے حملے کی دھمکی بھی دی اور کیرئر تباہ کرنے کی بات کرنا تو اس کے نزدیک عام سی بات تھی۔۔ استعفے میں چینل مالک کو بتایاگیا کہ پرڈیوسر سے خطرہ ہے وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔۔ اس لئے ایسے افسوسناک حالات اور قابل رحم ماحول میں کام جاری رکھنا ممکن نہیں،استعفا فوری طور پر قبول کیا جائے۔۔
پپو نے جب اس سارے معاملے کی کھوج لگائی تو پتہ چلا کہ پروگرام کے دوران خاتون اینکر کو بہانے بہانے سے چھونا، مائیک لگانے کے بہانے اس کی پشت پر ہاتھ پھیرنا، بالوں کو ٹھیک کرنے کے بہانے پھر نازیبا حرکت کرنا، پرڈیوسر کی عادت سی بن گئی تھی، اس کی ہر غلط حرکت پر خاتون اینکر اسے ٹوکتی رہی، منع کرتی رہی لیکن بچھو یا سانپ اپنی فطرت کیسے تبدیل کرسکتا ہے؟؟ اور اینکر اس ساری صورتحال سے متعلق اوپر والوں کو آگاہ کرتی رہی لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی۔۔ ظاہر سی بات ہے ایک بندہ کماؤ پوت ہو تو اسے کون کچھ کہہ سکتا ہے؟؟ منڈی جانا تو اپنی گاڑی فروٹ سے بھرلینا۔۔ مساج سینٹر پر چھاپہ مارنا تو وہاں کی عورتوں کو شب بسری کے لئے منتخب کرتا، اپنے دوستوں کو بھی ریفر کرتا۔۔ پپو نے اس طرح کے واقعات بھی بتائے جن کی تفصیل پھر سنائیں گے۔۔
پپو کا مزید کہنا ہے کہ کئی کیسز ایسے بھی ہوئے جس میں اس نے ڈیل کرلی لیکن چینل مالک کو ہوا تک نہیں لگنے دی اور ساری کمائی خود ہی ہڑپ کرلی۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چینل مالک اس پرڈیوسر کے خلاف کیا ایکشن لیتا ہے جس کی وجہ سے پورے معاشرے میں چینل کی عزت نیلام ہورہی ہے۔۔ کیوں کہ خاتون اینکر کے استعفے کا متن صاف ظاہر کررہا ہے کہ پرڈیوسر انتہائی طاقت ور چیز ہے اور چینل مالک اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔چند روپوں کے لالچ میں عزت کی نیلامی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا یا اب تک نیوز انتظامیہ ایسے شیطان صفت انسان کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی۔۔ ہم انتظار کریں گے اگر پرڈیوسر اپنی جگہ برقرار رہا تو پھر ہم اسے وقفے وقفے سے بے نقاب کرتے رہیں گے۔۔ وہ خاتون اینکر تھی جسے پرڈیوسر نے دھمکیاں دیں، بھرم بازی دکھائی، یہاں معاملہ دوسرا ہوگا۔۔پھر وہ وہ کہانیاں مارکیٹ میں آئیں گی کہ چینل مالک خود پریشان ہوجائے گا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے۔۔یہ دھمکی نہیں صرف وارننگ ہے۔۔ امید ہے یہ معاملہ بحسن و خوبی نمٹایاجائے گا اور خاتون اینکر کی داد رسی کی جائے گی۔۔ داد رسی ہمارے نزدیک یہی ہے کہ کرپٹ، بلیک میلر پرڈیوسر کو ادارے سے نکال باہر کیا جائے ، اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں۔۔اس سارے معاملے میں خاتون اینکر مظلوم ہے اور سنت رسول صل اللہ علیہ وآلہ سلم یہی ہے کہ مظلوم کا ساتھ دیا جائے۔۔ پپو خاتون اینکر اور پرڈیوسر دونوں کا ماضی اچھی طرح جانتا ہے، اگر خاتون اینکر دو نمبر ہوتی تو ہم کبھی اس معاملے میں نہ کودتے۔۔ امید ہے تھوڑے لکھے کو بہت سمجھا جائے گا۔۔ ( علی عمران جونیئر)
(ابتک نیوزانتظامیہ یا چینل مالک کا ترجمان اس حوالے سے اپنا کوئی موقف دینا چاہے تو ہم اسے بھی ضرور شائع کریں گے،پرڈیوسر کے موقف کی قطعی بات نہیں ہوگی، پوری فیلڈ جانتی ہے اس کے کرتوت کیا ہیں۔۔علی عمران جونیئر )۔۔
0
