جہان پاکستان ملتان اسٹیشن بند، کارکنان فارغ۔۔

جہان پاکستان اخبار کی انتظامیہ نے اپنا ملتان اسٹیشن گزشتہ روز بند کردیا، ہفتہ کے روز ملتان اسٹیشن کا تیار ہونے والا آخری پیپر تھا اب اسے لاہور سے تیار کرکے ملتان ایڈیشن کے نام سے شہر میں تقسیم کیا جائے گا۔۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بغیر کسی نوٹس کے کیا گیا، دسمبر اور جنوری میں کارکنان کی چھانٹیوں کے باوجود ملتان اسٹیشن خسارے میں جارہا تھا جس کے باعث انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا۔۔ فارغ ہونے والے ملازمین میں نیوز ڈیسک ، رپورٹرز اور آفس کا نان جرنلٹس عملہ شامل ہے جن کی تعداد پچیس سے زائد بتائی جاتی ہے۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اخبارات اب چھوٹے اسٹیشن بند کرکے ہیڈ آفس سے اخبار تیار کرکے اسی شہر کا بناکر بیچ رہے ہیں اور اشتہارات کی جب بات آتی ہے تو ہر اسٹیشن کا الگ اشتہار مانگا جاتا ہے اور ہر اسٹیشن کے الگ بل بنائے جاتے ہیں۔۔ پی ایف یوجے نے اس عمل کی شدید مذمت کی ہے، پی ایف یوجے کے صدر شہزادہ ذوالفقار اور سیکرٹری ناصر زیدی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کورونا کی وجہ سے صحافی پہلے ہی سخت حالات کا شکار ہیں لیکن اس کے باوجود وہ دن اور رات دیکھے بغیر اس چیلنج سے نبردآزما ہیں ،جہان پاکستان ملتان کا بند ہونا صحافیوں کے مسائل میں اضافے کا باعث بنے گا۔۔ انہوں نے اخبار کے مالک سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔۔دریں اثنا ملتان یونین آف جرنلسٹس (ایم یو جے) نے روزنامہ جہان پاکستان کی انتظامیہ کی جانب سے ملتان اسٹیشن بند کرنے کے اقدام کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے اخباری صنعت میں وارد “سیٹھوں” نے صحافت کی حرمت کو داغدار کر دیا ہے، جہان پاکستان انتطامیہ نے ملتان سے اخبار نکال کر تھوڑے عرصے میں ہی بند کر کے افسوس ناک قدم اٹھایا ہے، جس سے میڈیا ورکرز بے روزگار ہوئے ہیں۔ صدر ایم یو جے شکیل بلوچ، جنرل سیکرٹری شفقت بھٹہ، فنانس سیکرٹری رانا عرفان الاسلام، نائب صدر شاہد سٹھو، جوائنٹ سیکرٹریز محمود احمد چودھری، مجاہد سلطان، اراکین مجلس عاملہ شہزاد خان درانی، آغا شاہد عظیم، طارق انصاری، راو وسیم اختر، عمران عثمانی، احتشام الحق، چودھری سلیم سندھو، رانا منور، آصف مختار بلوچ اور بلال نیازی نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ جہان پاکستان کے ملتان اسٹیشن کو بند کر کے صحافیوں کا معاشی قتل کیا گیا ہے، تھوڑے ہی عرصے قبل جب جہان پاکستان ملتان اسٹیشن کا آغاز کیا گیا تو دیگر اداروں سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو معقول پیشکش پر ملازمتیں دی گئیں جبکہ اب جہان پاکستان انتظامیہ نے ملتان سے اپنا اخبار بند کر کے ان میڈیا ورکرز کے روزگار پر شب خون مارا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ایم یو جے عہدیداران نے مذکورہ اخبار کے مالک سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافت کی حرمت کو مقدم سمجھتے ہوئے ملتان اسٹیشن بند کرنے کے بجائے اسے جاری رکھا جائے، صحافت کو اپنے مفادات کے تحفظ کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ ایم یو جے کے عہدیداران نے کہا ہے کہ جہان پاکستان انتظامیہ نے ملتان اسٹیشن بند کر کے قابل مذمت اور تشویشناک قدم اٹھایا ہے، میڈیا ورکرز کو ملازمتوں سے نکال کر ظلم کیا جارہا ہے، مذکورہ اخبار کے مالک اپنا مذموم فیصلہ واپس لیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں