markazi mulzim ka aetaraf jurm maqtool ki asia bhi baramad

صحافی کے قاتل کیسے پکڑے گئے؟

خصوصی رپورٹ۔۔

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سندھ غلام نبی میمن نے انکشاف کیا ہے کہ صحافی عزیز میمن کی طبی موت نہیں ہوئی بلکہ انہیں قتل کیا گیا ،قتل کا ماسٹر مائنڈ مشتاق سہتو ہے ، نذیر سہتو نے بھی اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملزمان نے خود کوچھپانے کی بہت کوشش کی لیکن قانون کی گرفت سے نہ بچ سکے، تفتیش کے دوران تمام اداروں نے مکمل تعاون کیا، قتل کیس میں اب تک تین ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، مزید پانچ کو گرفتار کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اعترافی بیان کے بعد ملزم نذیر سہتو کو جوڈیشل اور دیگر دو ملزمان کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔ عزیز میمن کو دشمنی پرقتل کیا گیا، ملزم نذیر سہتو کا ڈی این اے میچ کر گیا، نذیر نے تفتیش کے دوران مزید ملزمان کےنام بھی بتائے اور عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے 86 افراد کے ڈی این اے کئے تھے جس میں عزیز میمن کے گھر والے بھی شامل تھے۔ یہ ایک اندھا کیس تھا جو ورثا کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزم نذیر سہتو نے قتل کا اعتراف کر لیا ہے جسے آج عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ صحافی عزیز میمن کو دشمنی نہیں بلکہ صحافتی رنجش پر قتل کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملزموں نے ایک ہفتے تک عزیز میمن کو ریکی کے بعد قتل کیا۔ ملزمان بہت چالاک تھے جنہوں اپنا کوئی سراغ نہیں چھوڑا تھا۔ اس کیس میں نوابشاہ پولیس اور انٹیلی جنس اداروں نے بڑی محنت کی، جس کے بعد یہ قاتل قانون کی گرفت میں آئے۔خیال رہے کہ عزیز میمن کی لاش 16 فروری کو محراب پور کے قریب نہر سے ملی تھی۔پولیس نے 19 فروری کو عزیز میمن کے کیمرہ مین سمیت 4 نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا تھا۔مقتول صحافی عزیز میمن کو گذشتہ سال بلاول بھٹو کے ٹرین مارچ کے دوران اس وقت شہرت ملی تھی جب انہوں نے ٹرین مارچ میں 200 روپے لے کر آنے والی خواتین کی اسٹوری کی تھی۔خبر کے بعد مقتول صحافی عزیز میمن کو دھمکیاں مل رہی تھیں جس کا اظہار انہوں نے کئی بار کیا بھی تھا۔

ضلع خیر پور میرس سندھ سے تعلق رکھنے والے مشتاق احمد سہتو نے اپنے بھائی افشاد علی سہتو کے ساتھ نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ معروف صحافی عزیز میمن قتل کیس کی تفتیش کی مد میں ہمارے گاؤں صوفائی سہتا کے لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے جبکہ ہمارے گاؤں سے شہید صحافی عزیز میمن کا کوئی تعلق بھی نہیں ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ 23 مئی کو پولیس افسر کی سربراہی میں بڑی نفری جس میں کوئی بھی خواتین پولیس اہلکار نہیں تھی‘ نے میری بیوی (ض) کو اور میری بچیوں جو آٹھویں اور نویں جماعت میں پڑھتی ہے کو بغیر کوئی وجہ بتائے اغواءکر لیا جن کا آج تک کوئی پتہ نہیں چل رہا کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔ اس کے علاوہ گاؤں کی بہت سی عورتیں اور مرد پولیس کی حراست میں ہیں۔ مشتاق احمد سہتو نے مزید کہا کہ پولیس کی جانب سے انتقامی کارروائی کی جارہی ہے اصل قاتلوں کو پکڑنے کی بجائے ہمارے گاؤں کے لوگوں اور ہمارے اہل خانہ کو چادر چار دیواری کے تقدس کی پامالی کرتے ہوئے خواتین پولیس نفری کے بغیر کسی اجازت نامے کے گھروں میں گھس کر اٹھا لیا جاتا ہے۔ اشتیاق احمد سہتو نے وفاقی حکومت وزیراعظم عمران خان‘ چیف جسٹس اور آرمی چیف سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اہل خانہ کو جلد از جلد بازیاب کروایا جائے اور اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے شہید صحافی عزیز میمن کے قتل کی اعلیٰ سطح کی انکوائری کرواتے ہوئے اصل ملزمان کو کیفر کردار پر پہنچاتے ہوئے ان کے اہلخانہ اور گاؤں کے دیگر لوگوں کو تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔

مقتول صحافی عزیز میمن کے بھائی کا کہنا ہے کہ عزیز میمن کے قتل کی تحقیقات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عزیر میمن کے بھائی نے کہا کہ چاہے پانچ کروڑ ہو یا پچاس کروڑ، وہ کوئی دیت نہیں لیں گے۔ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ عزیز میمن کو صحافتی دشمنی پر قتل کیا گیا۔واضح رہے کہ عزیز میمن قتل کیس میں گرفتار تین ملزمان کو آج کنڈیارو کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ جہاں ملزم نذیر سہتو نے عدالت کے سامنے اعتراف جرم کیا۔عدالت نے دو ملزمان فرحان سہتو اور امیر سہتو کو ایک دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔دریں اثناء سابق ایڈیشنل آئی جی حیدر آباد ڈاکٹر ولی اللّٰہ دل نے قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کو بیان دیا تھا کہ عزیز میمن کی موت طبعی تھی۔ میڈیکل رپورٹ میں تشدد کے شواہد نہیں ملے نہ ہی یہ پتہ چلا کہ انہیں زہر دیا گیا تھا۔(خصوصی رپورٹ)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں