خود کو پبلک نیوز حیدرآباد کے بیورو چیف کہلانے والےرپورٹر جو اس سے قبل سما نیوزحیدرآباد میں کیمرہ مین تھے اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے ۔۔پپو کا کہنا ہے کہ پبلک نیوز میں رپورٹر بننے والے سماء نیوز میں جب کیمرہ مین تھے تو بھتہ خوری کا الزام ثابت ہونے پر نکالے گئے تھےاور اس بار پھر عوامی احتجاج کی زینت بن گئے ہیں، سوشل میڈیا پر ان کی ایک وڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ مین پوری بیچنے والے سے پیسے لے رہے ہیں اور پیسوں کو ادائیگی کرنیوالا شخص وڈیو میں بتاتا ہے کہ یہ خود کو سماء ٹی وی کا صحافی کہتا ہے اور بلیک میل کرکے بھتہ لینے آیا تھا جبکہ ایک آڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں رپورٹر مین پوری بیچنے والے شخص اور پولیس کے مخبر کو ڈرا دھمکا رہے ہیں کہ پیسے دوگے تو معاملات سیدھے رہیں گے ورنہ بگڑیں گے اسکی رسائی پریس کلب میں بہت مضبوط ہے وہ ایس ایس پی پر دبائو ڈلواکر ایس ایچ او کو ہٹوادیں گے ۔۔پپو کا پبلک نیوز کی انتظامیہ سے سوال ہے کہ کیا آپ اپنے ادارے میں رپورٹر رکھنے سے پہلے اس شخص کی پروفائل ہسٹری تعلیمی قابلیت اور تجربہ چیک نہیں کرتے یا پھر ایسے ہی بلیک میلرز اور بھتہ خوروں کی جگہ ہے ادارے میں جو آپکی بدنامی کا باعث ہوں اس سے قبل پولیس نے بھی بلیک میلنگ کے معاملے پر رپورٹر صاحب کو پولیس موبائل میں ڈال لیا تھا جسے پھر ایس ایس پی کی ہدایت پر چھوڑا گیا تھا۔۔
سابق کیمرہ مین رپورٹر بن کر بھی بھتہ خوری سے باز نہ آیا۔۔
Facebook Comments
