تحریر: فروا وحید(اینکرپرسن)۔۔
میری پہلی ملاقات انصار صاحب سے 2015 میں ہوئی، مجھے آج بھی یاد ہے ۔۔ میں بول نیوزمیں انٹرویو کیلئے پہنچی تھی ۔۔ کچھ دیر لابی میں انتظار کے بعد مجھے انٹرویو کیلئے آفس روم میں بلایا گیا ۔۔ کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں چار لوگوں سے میرے سامنا ہوا جن میں اظہر عباس صاحب،خاور نعیم ہاشمی صاحب ، اس وقت کے بول کے ایچ آر ہیڈ اور سید انصار نقوی صاحب موجود تھے۔
انٹرویو کا آغاز ہوا جوتقریباً 20منٹ تک چلا !! آخر میں اظہر عباس صاحب کی جانب سے مجھ سے سوال کیا گیا کہ مس فروا آپ خود کو آج سے 5 سال بعد کہاں دیکھتی ہیں ؟؟ ۔ جس پر میں نے با اعتماد ہو کر جواب دیا کہ سر میں خود کو پروگرامینگ میں دیکھ رہی ہوں !! جس پر انصار صاحب کی داد دینے والی ہلکی سی مسکراہٹ نے دل میں گھر سا کرلیا ۔۔
پھر اس کے بعدجیسے جیسے وقت گزتا گیا ۔۔۔ میری قسمت مجھے نیوز اینکر کے طور پر 24 نیوز ایچ ڈی لے آئی ۔ جہاں کچھ عرصے بعد ایک دن مجھے اطلاع ملی کہ انصار نقوی صاحب نے بھی 24 نیوز جوائن کرلیا ہے۔۔دل میں ایک خواہش سی جاگی کہ ان سے ملاقات کی جائے ۔ اکثر ان سے آفس میں گزر کے دوران سلام دعا ہوجاتی تھی مگر ڈیوٹی ٹائمنگ اور ان کی مصروفیات کے باعث ایسی کوئی نشست ممکن نہ ہوسکی جس میں تفصیلی بات چیت ہوسکے۔
پھر اچانک اگست 2019 میں ایک دن مجھے معلوم ہوا کہ مجھے موک کے طور پرکرنٹ افئیر سے متعلق ایک پروگرام رکارڈ کرانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ جس کو میں نے اپنی نیوز اینکر کی ڈیوٹی کے بعد خوش اسلوبی سے سر انجام دیا۔۔ اُس دن کے بعد میری قسمت نے پلٹا مارا اور میں نیوز اینکرنگ سے پروگرام اینکر بن گئی ۔ جہاں پرمجھے انصار نقوی صاحب بطور ڈائریکٹر پروگرامینگ اینڈ کرنٹ افیرز ملے ۔۔۔ اُن سے پہلی نشست کیلئے سینئر پروڈیوسر ابرار صاحب مجھے ان کے آفس میں لے گئے ۔۔۔ انصار صاحب کے روبرو بیٹھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں 2019 نہیں 2015 میں ہی ان کے سامنے بیٹھی ہوں ۔ انصار صاحب میں مجھے کوئی بدلاؤ محسوس نہ ہوا ۔۔ بلکہ میں تو خوش تھی کہ اب مجھے انہیں مزید جاننے کا موقع ملا ہے ۔۔۔ جس کے بعد روزانہ کی بنیاد پر ان سے پروگرام ریکارڈنگ سے قبل ملاقات ہوجاتی ۔۔ ان کے آفس روم میں جب بھی جانے کا اتفاق ہوتا تو ان کے سامنے میز پر ایک جار میں سوفٹ منٹس رکھی ہوتی تھیں ۔۔ جو وہ خود بھی کھاتے اور ہمیں بھی کھلایا کرتے تھے ۔۔
ایک قصہ مجھے نہیں بھولنے پاتا ۔۔ جب ایک بار کسی غلطی پر میں انصار صاحب کے پاس گئی اور آنسو بہانے لگی ۔۔۔ انہوں نے میری روداد بڑی خاموشی اور تحمل سے سنی اور پھر بڑے پیار سے مجھے کہا کہ دیکھو فروا مجھے لڑکیاں روتی ہوئی بالکل اچھی نہیں لگتیں ۔۔ ان کی یہ بات سن کر ایک حوصلہ سا من میں جاگا اور اس دن سے ان سے ایک عجیب سا رشتہ قائم ہوگیا ۔۔۔ میں جب بھی ان سے اپنے پروگرام کے ٹاپک پر ڈسکشن کیلے جاتی تو ہماری ڈسکشن طویل ہوجاتی ۔۔۔ انہوں نے مجھے اس پروفیشنل زندگی کی بھاگ دوڑ کے بارے بہت کچھ سکھایا میں آج پروگرامینگ میں جہاں ہوں ان کی وجہ سے ہوں۔۔ ان کی ڈانٹ میں بھی ایک سیکھ، پیار اور اپنا پن تھا ۔۔۔ میں کبھی غصے میں کسی کی کوئی شکایت لے کر جاتی تو میری پوری بات سننے کے بعد میز کے دراز سے ایک بسکٹس کا تھیلا نکال کر میرے سامنے رکھ دیتے اور کہتے بسکٹس کے ساتھ چائے لو گی ؟ آہستہ اہستہ میرے دل میں ان کی عزت اس قدر بڑھ گئی ! کہ میرے لیے ان کا مقام میری زندگی کے بہترین استاد اور والد کے جیسا بن گیا ۔۔ ایسا لگتا تھا کہ آفس میں انصار صاحب میرے لئے موجود ہیں جو میرے مسائل، میری پریشانی سن بھی لیں گے اور مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ مجھے بہتر طریقے سے مسائل سے لڑنے کا طریقہ سمجھا بھی دیں گے ۔۔۔
میری بہت خواہش رہی کہ انصار صاحب میرے کام سے خوش ہو کر میرے سامنے بھی کبھی میری تعریف کریں ۔۔ کیونکہ وہ اکثر میرے پیٹھ پیچھے میری تعریف کیا کرتے تھے ۔۔۔ میرے دل میں خواہش باقی رہ گئی جو میری ہمیشہ سے کوشش رہی کہ میں کبھی کوئی ایک ایسا پروگرام ضرور کروں کہ جس پر انصار صاحب اپنی خوشی کا اظہار میرے سامنے کھل کر کرنے میں مجبور ہوجائیں ۔۔ پروگرام کی اچھی رینکنگ آنے پر ہماری ٹٰیم کے ساتھ کھانے اور دعوت رکھنے کی باتیں ہوتیں ۔۔۔ انصار صاحب نے تو ہماری پوری ٹیم کو pizza party کی دعوت بھی دے رکھی تھی ۔۔ جو ٹیم ممبرز کی مصروفیات اور میرے شوٹ پر ہونے کے باعث انجام نہ پاسکی ۔۔۔ ان کے کمرے کے سامنے سے جب بھی میرا گزر ہوتا تو میرے دور سے ہی سلام کرنے پر وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے مجھے سلام کا جواب دیتے ۔
اب انصار صاحب کے کمرے کے باہر سے گزر کا سوچ کر ہی آنکھ بھر آتی ہے ۔۔۔ میری جب انصار صاحب سے آخری ملاقات ہوئی تو اس دن وہ بڑے پیار سے مجھے زندگی کے پہلو سمجھا رہے تھے کہ فروا زندگی میں جب بھی موقع ملے چھوٹی چھوٹی نیکیاں کرتی رہا کرو۔۔ اور اس آخری نشست میں بات کرتے کرتے انصار صاحب نے اس دن ایدھی صاحب کو بھی ڈسکس کیا۔۔۔۔ اور پھر جنید جمشید کو بھی ۔۔ اور جنید جمشید جی شہادت کو بھی ۔۔ اسے اتفاق کہہ لیں یا کوئی قدرت کا اشارہ کہ ان سے یہ المناک واقع جڑا ہوا تھا ۔۔ مجھے انصار نقوی صاحب کے وہ الفاظ نہیں بھولتے کہ جب جنید جمشید کے طیارہ حادثہ پر انہوں نے یہ جملہ کہا تھا کہ ایسے حادثات میں انسان کو وقت نہیں ملتا گڈبائی کہنے کا بھی ۔۔
سر انصار صاحب ! آپ کی یہ بات کہ لڑکیاں روتی نہیں آنسو جما دیتی ہیں میرے حوصلے کیلئے بہت اہمیت کی حامل تھی ۔۔ لیکن آپ کا مجھ سے آخری ملاقات میں جنید جمشید حادثے پر “انسان کو وقت نہیں ملتا گڈبائی کہنے کا” کا جملہ مجھ پر سکتا طاری کرگیا آپ کے جانے کی خبر سن کر ۔۔۔ اور آج بھی مجھے یہ جملہ مجھے مضبوط ہونے کی کوشش جے باوجود آبدیدہ کر دیتا ہے ۔ کیونکہ سر، ہمیں بھی آپ نے وقت نہیں دیاگڈبائی کہنے کا۔۔(فروا وحید)
(فروا وحید لاہور کے میڈیا گروپ سٹی نیوزنیٹ ورک سے بطور پروگرام اینکر منسلک ہیں، یہ تحریر ان کی وال سے لی گئی ہے۔۔۔جس کے مندرجات سے عمران جونیئر ڈاٹ کام اور اس کی پالیسی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔۔علی عمران جونیئر)۔۔
