گزشتہ روز نائنٹی ٹو کے ایک رپورٹر کے حوالے سے عمران جونیئر ڈاٹ کام پر خبر دی گئی تھی کہ ۔۔نائنٹی ٹو کے رپورٹر نے غریب کی بیٹی کی عزت کا جنازہ نکال دیا۔۔۔ اس خبر کے ساتھ ایک عدد ایف آئی آر کا عکس بھی لگایا گیا تھا۔۔ باوجود اس کے کہ ہمیں یہ خبر بمعہ ایف آئی آر ملی ، ہم نے چنیوٹ میں اپنے دوتین سورسز سے اس خبر کو کاؤنٹر چیک کرایا، جس کے بعد ہم نے اس خبر کو اپنی ویب ٹیم کے حوالے کردیا جنہوں نے اسے شیئر کیا۔۔ اس دوران ہم نے مذکورہ رپورٹر کا نمبر بھی لینے کی کوشش کی مگر ہمیں ان کا نمبر نہ مل سکا ورنہ ان کا موقف بھی شامل کردیتے۔۔ اتفاق کی بات ہے گزشتہ روز ہی ڈان اخبار نے بھی اس خبر کو شائع کیا۔۔ گزشتہ رات مذکورہ رپورٹر نے ہم سے رابطہ کیا۔۔ ہم نے انہیں اپنا موقف دینے کا کہا۔۔ جس پر انہوں نے اپنا موقف کچھ اس طرح سے دیا ہے۔۔۔”میرا موقف یہی ہے کہ یہ سب جھوٹ کا پلندا اور من گھڑت پروپگنڈہ ہے اسکا میرے ادارے یا پیشے سے کوئی تعلق واسطہ نہیں یہ ایک ذاتی معاملہ ہے اور اس میں مدعی نے جو موقف اختیار کیا اسی کے برعکس لڑکی اپنے والدین کے خلاف ڈی پی او کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروا چکی ہے اس ساری خبر کہ پیچھے پانچ سو ہزار روپے دیہاڑی لگانے والے چند دو ٹکے کے بلیک میلر صحافی جن کا وطیرہ ہے اداروں سے رشوت لینا انکا کیا دھرا ہے باقی اس ایف آئی آر میں کتنی حقیقت آئندہ آنے والے دنوں میں عدالت میں دودھ کا دوھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔۔”(مذکورہ رپورٹر کی جانب سے دی گئی وضاحت یا موقف کو ہم نے من و عن لگایا ہے۔۔ایک لفظ بھی ایڈٹ نہیں کیاگیا۔۔)
92 کے رپورٹر کی جانب سے وضاحت۔۔
Facebook Comments
