خیبرپختونخوا حکومت نے فوری طور پر تمام یوٹیب ، فیس بک، اور ویب چینلز پر پابندی لگادی ہے اور ان چینلز سے منسلک صحافیوں کے سرکاری دفاتر میں داخلے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔۔ سرکاری اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ صرف پیمرا سے رجسٹرڈ نیشنل لیول کے چینلز اور اخبارات کو سرکاری ایونٹس کور کرنے کی اجازت ہوگی۔۔ اعلامیہ کے مطابق سوشل میڈیا چینلز کے نمائندوں کو کسی بھی بیوروکریٹ، سرکاری افسر کے بیانات ریکارڈ کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔۔ یہ سرکاری اعلامیہ تمام ضلعی انتظامیہ کو جاری کردیاگیا ہے۔۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری افسران اور ملازمین کو بتا دیا گیا ہے کہ کسی بھی ویب یا فیس بک کے خود ساختہ نیوز چینلز کو کسی قسم کی کوئی نہ خبر دی جائے نہ ہی انہیں پریس کانفرنس میں بلایا جائے ۔بے شک وہ جو خبر چلائے انکو نہ جواب دیا جائے نہ ہی انکی خبر پر کوئی اہمیت دی جائے ۔تمام پریس کانفرنس میں آنے والے معزز نمائندگان کو اپنی شناخت اور ادارے کا نام لازمی بتانا ہوگا جسکے بعد سرکاری پریس کانفرنس میں بیٹھنے کی اجازت ہوگئی اور سرکاری دفاتر میں داخلہ ہوگا ۔۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ چند روز میں نام نہاد فیس بکی چینلز اور ویب چینلز کی بھر مار نے کے پی حکومت کی پریشانی میں اضافہ کردیا اور خود ساختہ ویب اور یو ٹیوب اور فیس بک کے نیوز کے من گھڑت نام بنا کر اور ٹی وی والے لوگو بنا کر سرکاری ملازمین اور شہریوں کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ عروج پر پہنچا ۔پپو کا کہنا ہے کہ اس پابندی سے عامل صحافیوں کو عزت و مقام ملے گا، دو نمبر اور جعلی صحافیوں کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔۔
خیبرپختونخوا میں جعلی صحافیوں پر پابندی۔۔
Facebook Comments
