آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی نے وزیراعظم عمران خان کو لکھے ایک خط میں کہا ہے کہ اے پی این ایس وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتی ہے۔ اس وبائی مرض کی وجہ سے نہ صرف ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے ہیں بلکہ عالمی معیشت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ وبا سے معیشت اور کاروبار کو ہونے والے نقصانات کا اعتراف کئی عالمی رہنمائوں بشمول آپ نے بھی کیا ہے۔ آپ کی حکومت نے 25؍ مارچ کو معاشی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا تھا اور ایسے کاروباری اداروں کیلئے مزید ریلیف کی یقین دہانی کرائی گئی تھی جو موجودہ صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں۔ پرنٹ میڈیا کا نمائندہ ادارہ ہونے کی حیثیت سے ہم آپ کی توجہ عمومی طور پر میڈیا انڈسٹری جبکہ خصوصی طور پر اخبارات اور ہفت روزہ اشاعتوں کو درپیش بحران کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں جس کا سامنا یہ انڈسٹری گزشتہ چند برسوں سے کر رہی ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے انڈسٹری کو ایسے مالی مسائل کا سامنا رہا ہے جس کی مثال پہلے نہیں ملتی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اب تک طویل عرصہ سے اپنی بقایہ جات ادا نہیں کیں اور ساتھ ہی حکومت اور نجی شعبے نے اپنے اشتہارات میں بھی بڑے پیمانے پر کمی کر دی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں نہ صرف ملازمین کی تعداد میں تخفیف کی گئی ہے بلکہ اخبارات کے ملازمین کو ان کی تنخواہوں میں بھی تاخیر کا سامنا ہے اور ساتھ ہی کئی اخبارات اور ہفتہ روزہ اشاعتیں بند ہو گئی ہیں۔ کورونا کی وبا نے اس بحران میں مزید اضافہ کیا ہے۔ نجی شعبے کے اشتہارات بھی جمود کا شکار ہیں جبکہ سرکاری اشتہارات کی تعداد میں نمایاں حد تک کمی آ گئی ہے۔ یہ قومی ایمرجنسی ہے۔ اس میں وفاقی حکومت کی جانب سے بیل آئوٹ پیکیج کی اشد ضرورت ہے تاکہ اخباری صنعت عوام میں آگاہی پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھ سکے اور عوام کو وائرس کے نقصانات اور نتائج سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ دیکھیں تو آزاد پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پاکستان کی جمہوریت کا چوتھا ستون ہے۔ اگر یہ ستون کمزور یا منہدم ہوگیا تو عدلیہ، ایگزیکٹو اور قانون ساز ادارے کی صورت میں باقی تین ستون بھی افراتفری کا شکار ہو جائیں گے اور ملک کا جمہوری نظام غیر مستحکم ہو جائے گا۔ لہٰذا، اشاعتی میڈیا کیلئے فوری طور پر ایک بیل آئوٹ پیکیج جاری کیا جائے جس میں مندرجہ ذیل ریلیف شامل ہو: ۱) وزارت اطلاعات کورونا وائرس کے متعلق آگاہی مہم کے اشتہارات کی مد میں آئندہ تین ماہ تک ماہانہ ایک ارب روپے جاری کرے جس سے عوام کو وائرس کے نقصانات اور حفاظتی اقدامات سے آگاہ کرنے میں مدد ملے گی، اس کے علاوہ وفاقی حکومت بھرپور انداز سے پرنٹ میڈیا کے ذریعے مہم چلائے تاکہ قارئین بھی ملک کے سماجی و معاشی تانے بانے کو بچانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ۲) وفاقی اور پنجاب و خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی جائے کہ وہ پرنٹ میڈیا کو اشتہارات کی مد میں اپنے واجبات ادا کریں جو طویل عرصہ سے ادا نہیں کیے گئے تاکہ میڈیا ادارے اس رقم کو اپنے ملازمین کی پرانی تنخواہوں کی ادائیگی پر خرچ کر سکیں اور پرنٹ میڈیا کا دائرہ وسیع کر سکیں۔ ۳) سرکاری اشتہارات کے ریٹس 100؍ فیصد تک بڑھائے جائیں۔ اس سے سرکاری ریٹس تجارتی مشترکنندگان کے مقابلے میں آدھے سے بھی کم ہوں گے اور ساتھ ہی آزاد میڈیا کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔ ۴) اخبارات کی عمارتوں اور پریس سینٹرز کی بجلی کے نیپرا کے ریٹس 50؍ فیصد تک کم کیے جائیں۔ ۵) ایف بی آر کو ہدایت کی جائے کہ رواں مالی سال کیلئے اخبارات پر عائد وتھ ہولڈنگ ٹیکس میں 1.5؍ فیصد کی کمی کی جائے۔ اے پی این ایس نے امید ظاہر کی ہے کہ مذکورہ بالا ریلیف پیکیج دیکر انڈسٹری کو اس بحران سے نمٹنے میں مدد دی جائے گی جس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی۔
حکومت بیل آؤٹ پیکیج دے، اے پی این ایس کی اپیل۔۔
Facebook Comments
