media houses ko 2 saal ke wajubaat ada

میڈیا بحرا ن سے نکلنے کیلئے مالکان کی حکومت کو تجاویز۔۔

پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم سے الیکٹرونک میڈیا صنعت کے لئے بیل آئوٹ پیکیج کی درخواست کی ہے ۔ وزیر اعظم کے نام چئیرمین پی بی اے شکیل مسعود کی جانب سے خط میں بتایا گیا ہے کہ الیکٹرونک میڈیا صنعت کو عرصہ سے مالی بحران کا سامنا ہے ۔کمرشیل اشتہارات 50فیصد اور سرکاری اشتہارات 80 فیصد کم ہو گئے ہیں ۔بڑے پیمانے پر ڈائون سائزنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد بیروزگار ہو گئے ہیں ۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہلاکت خیز کورونا وائرس کی وجہ سے میڈیا انڈسٹری کو مزید دھچکا لگنا یقینی ہے ۔ پورے ملک میں دفاتر بند ہو نے کی وجہ سے اشتہارات جاری کر نے والے اداروں نے بھی اپنے آپریشنز روک دئے ہیں ۔ زیادہ تر ملٹی نیشنل کارپوریشنز جن کا اشتہارات کے اجرا میں سب سے بڑا حصہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے بھی اپنی اشتہاری مہم کو محدود یا ختم کر دیا ہے ۔ کورونا وائرس جس کی ابھی ابتدا ہے ،اگر ہم اس پر جلد قابو پا بھی لیں ،اس کے ما بعد اثرات سے سنبھلنے میں مہینوں لگ جائیں گے، پہلے ہی سے مشکلات کا شکار اس صنعت کو یہ جاں لیوا جھٹکا ہے اس کے تدارک کے لئے بر وقت اقدامات کر نے ہوں گے ۔ دنیا بھر میں حکومتیں کاروبار کو بحران سے نکلنے کے لئے بیل آئوٹ اور ریلیف پیکجز دے رہی ہیں ۔ میں پاکستان میں تمام ٹیلی وژن اور ریڈیو براڈ کاسٹرز کی جا نب سے چیئرمین پی بی اے کی حیثیت سے نشریاتی اور اشاعتی صنعت کو دیوالیہ ہو نے سے بچانے اور ہزاروں میڈیا ورکرز کو بیروز گار ہو نے سے بچانے کے لئے تجویز کرتا ہوں نمبر ۔ ایک ) وزیر اعظم متعلقہ محکموں کو ہدایت کریں کہ وہ بقایاجات ہنگامی بنیادوں پر فوری ادا کریں ۔ نمبر ۔ دو) حکومت الیکٹرونک میڈیا صنعت کے لئے ایک ارب روپے آئندہ ماہانہ تین ماہ کے لئے ریلیف پیکج مختص کرے ۔یہ حکومتی آگاہی مہم کی مد میں دئے جا سکتے ہیں ۔نمبر ۔ تین ) پاک سیٹ سے درخواست کی جا سکتی کہ وہ گزشتہ یکم مارچ سے سٹیلائٹ چارجز 50 فیصد کم کر دے ۔ نمبر ۔ چار ) نیپرا سے کہا جا سکتا ہے کہ اس بحران میں میڈیا صنعت کو ٹیرف میں 40 فیصد ریلیف دے ۔نمبر ۔ پانچ ) پیمرا سے کہا جائے کہ وہ رواں سال سالانہ لائسنس چارجز ختم کر دے ۔ نمبر ۔ چھہ )ایف بی آر سے کہا جائے کہ وہ رواں اور آئندہ مالی سال کے لئے ڈیڑھ فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کر دے ۔ نمبر ۔ سات ) صوبائی حکومتوں سے کہا جائے کہ وہ اس بحران کے دوران اشتہارات سیلز ٹیکس ختم کردیں ۔ نمبر ۔ آٹھ ) انکم ٹیکس ری فنڈز عرصے سے واجب الادا ہیں ۔ایف بی آر کو ان کے فوری اجرا کی ہدایت کی جائے ۔ آخر میں چیئرمین پی بی اے شکیل مسعود نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ ان تمام امور کا نوٹس لیتے ہوئے میڈیا صنعت اور اس کے کارکنوں کو تباہ ہونے بچالیں ۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں