social media par jhooti khabro ka sadbaab kia jaaea

شہبازشریف کو آفر دینے والے 2 صحافی کون تھے؟؟

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ الیکشن سے ایک ماہ قبل تک ان کی طاقتور حلقوں سے ملاقاتوں میں کابینہ کے نام تک فائنل ہو رہے تھے،اس دوران دو نامور صحافی مجھے اگلا وزیراعظم بنانے کا پیغام لائے تھے۔روزنامہ جنگ کو ایک انٹرویو کے دوران شہباز شریف نے مزید بتایا کہ چودھریوں اور ان کے تعلقات بالکل نیوٹرل ہو چکے ہیں جن میں اب کوئی تلخی نہیں لیکن فی الحال جوڑ توڑ یا سیاسی اتحاد کی کوئی بات نہیں ہوئی، البتہ دونوں طرف ایک دوسرے کے لیے خیر سگالی اور خیر خواہی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔صحافی  سہیل وڑائچ نے متعدد سوالات ان کے آگے رکھے، جیسا کہ کیا وہ کسی ڈیل کے تحت واپس آئے ہیں؟ ان کے آنے کا مقصد کیا ہے؟ کیا وہ مستقبل کی سیاسی صف بندی کے لیے آئے ہیں؟ کیا واقعی چودھریوں کے ساتھ نون لیگ کے درپردہ کوئی مذاکرات چل رہے ہیں؟شہباز شریف طاقتور حلقوں کے کتنے قریب ہیں اور کتنے دور؟ نواز شریف کا جانشین کون ہے؟مریم اور حمزہ کا سیاسی حفظِ مراتب کیا ہے اور کیا شریف خاندان نے اس حوالے سے کوئی فیصلہ کیا ہے یا نہیں؟ شہباز شریف ہر سوال کاجواب دیتے رہے ماسوائے ایک معاملے کے انہوں نے ہر چیز کھلے دل سے بتائی، بس ایک معاملے کو آف دی ریکارڈ قرار دیا۔دریں اثنا میرشکیل کیس میں  نیب کی جانب سے نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کے اجرا کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ۔۔ شریف خاندان، نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ قانون کی پاسداری کی۔ نیب کا یہ اقدام قانون کی کھلی توہین اور عدالتی احکامات کے سراسر خلاف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کیخلاف 34 سال پرانے کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کرنا نیب نیازی گٹھ جوڑ کی بدترین مثال ہے۔ ۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں