وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو اچانک عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے جس کا نوٹی فیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے ۔نجی نیوز چینل جیو نیوز کے مطابق فردوس عاشق اعوان کو عہدے سے ہٹانے کے بعد سینیٹر شبلی فراز کو وزیر اطلاعات کے عہدے پر تعینات کردیا گیا ہے ۔بتا یا جا رہا ہے کہ فردوس عاشق اعوان کو عہدے سے ہٹائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ وزیراعظم کی پالیسیوں کی صحیح طریقے سے عکاسی نہیں کر پا رہی تھیں اور پارٹی میں بھی ان کی مخالفت تھی ،اس حوالے سے کافی عرصے سے سوچ بچار ہو رہا تھا پہلے وفاقی وزیر اطلاعات کے عہدے کے لیے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود سے بھی رابطہ کیاگیا تاہم انہوں نے یہ عہدہ لینے سے معذرت کرلی تھی۔۔دریں اثنا آر وائی نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے حوالے سے وزیر اعظم کو رپورٹ پیش کی گئی تھی جس کے بعد انہیں عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بطور معاون خصوصی اختیارات کا ناجائز استعمال اور کرپشن کی۔ انہوں نے میڈیا کو جاری کیے جانے والے حکومتی اشہتارات سے 10 فیصد کمیشن لینے کی کوشش کی۔ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سرکاری ٹی وی کے کوٹے پر ضرورت سے زائد ملازم رکھے، انہوں نے بغیر اجازت 2 سکیورٹی گارڈز سمیت 9 ملازم رکھے ہوئے تھے، انہوں نے 2 گاڑیاں بھی لے رکھی تھیں جس کی انہیں اجازت نہیں تھی۔علاوہ ازیں۔۔پاکستان تحریک انصاف کی رہنما فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے فیصلے کا احترام کرتی ہوں،ان کا استحقاق ہے :کس کھلاڑی کو کس پوزیشن پر کھلانا ہے۔معاون خصوصی برائے اطلاعات کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ایک سال کے عرصے میں بھرپورصلاحیتوں سے فرائض سرانجام دینے کی کوشش کی ، وزیراعظم عمران خان کا شکریہ انہوں نے مجھ پراعتماد کیا۔ انہوں نے شبلی فراز کو وزیر اطلاعات اور عاصم سلیم باجوہ کو معاون خصوصی برائے اطلاعات بننے پر دلی مبارکباد دی اور نیک تمناوں کا اظہار کیا۔
فردوس عاشق اعوان کو کرپشن پر ہٹایاگیا،نجی چینل کا دعویٰ۔۔
Facebook Comments
