قومی احتساب بیورو (نیب) نے میر شکیل الرحمن کیس میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دنیانیوز نے دعوی کیا ہے کہ نیب نے اراضی کیس میں میاں نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کے لیے احتساب عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف متعدد بار طلبی کے باوجود پیش نہیں ہوئے، انہوں نے نیب کے سوالنامے کا جواب بھی نہیں دیا۔خیال رہے کہ نیب نے میر شکیل الرحمان کو اراضی کیس میں گزشتہ ماہ مارچ میں گرفتار کرکے احتساب عدالت میں پیش کیا تھا۔ ان پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں 54 پلاٹ حاصل کرنے کا الزام ہے۔ نیب حکام نے انھیں طلب کیا اور تفتیش کے بعد اُنھیں گرفتار کر لیا گیا۔نیب ترجمان کے مطابق 1986ء میں لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈٰی اے) نے 180 کنال اراضی پر استثنیٰ قرار دیتے ہوئے اسے ہدایت علی اور حاکم علی کے نام الاٹ کیا تھا جبکہ اس کی پاور آف اٹارنی میر شکیل الرحمن کے پاس تھی۔نیب کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ 1986ء میں اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں نواز شریف نے استثنیٰ کے قواعد کو تبدیل کرتے ہوئے 55 کنال پانچ مرلےاراضی ہدایت علی اور حاکم علی کے نام کردی جس کی اٹارنی میر شکیل الرحمن کے پاس تھی۔نیب نے کہا کہ کسی بھی سرکاری ہاؤسنگ سکیم میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ قرعہ اندازی کے ذریعے ہوتی ہے لیکن اس میں قرعہ اندازی نہیں کروائی گئی۔ میر شکیل الرحمن کو مختلف مقامات پر 33 کینال، 124 کینال اور 33 کینال کے تین پلاٹ الاٹ کیے گئے تھے۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ اگر ان 55 پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں قرعہ اندازی کروائی جاتی تو ہر ایک الاٹی کو ایک ایک کینال کا ایک پلاٹ مل جاتا۔
میرشکیل کیس، نوازشریف کو اشتہاری قراردینے کا فیصلہ۔۔
Facebook Comments
