سندھ ہائیکورٹ میں صحافیوں اورخواتین بچوں پر موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی کا معاملہ پیش کیا گیا،* عدالت نے محکمہ داخلہ سندھ، چیف سیکرٹری سندھ اوردیگر کونوٹس جاری کردیاجبکہ عدالت نے سندھ حکومت سے تیس اپریل کوتحریری جواب طلب کرلیاعدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں کہاگیا ہےکہ موٹرسائیکل پرڈبل سواری کی پابندی سے صحافی طبقہ بےحد متاثرہورہاہے،تاریخ میں پہلی بارحکومت نے پولیس اورصحافیوں پر بھی پابندی عائدکردی ہے، سماعت کےدوران عدالت کوبتایاکہ صحافی ہمیشہ اپنے اداروں کیساتھ فرنٹ فٹ پرکام کرتے ہیں، کورونا سےبچاو کیلئے احتیاطی تدابیر پر صحافی بھی مکمل عملدر آمد کررہے ہیں، جبکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سےپبلک ٹرانسپورٹ بند ہےصحافیوں کوعوام باخبررکھنے کیلٸے ہر صورت باہر نکلناپڑتا ہے، سندھ اسمبلی، سیکریٹریٹ، ہائیکورٹ، پریس کلب پربھی صحافیوں کا ٹمپریچر چیک کرنےکے بعد داخلے کی اجازت ہے، ڈبل سواری پرپابندی کیوجہ سےکئی کیمرا مین، فوٹوگرافر،کاپی ایڈیٹرز اور دیگرصحافیوں دفاتر جانے سےقاصر ہیں، میڈیا بحران کی وجہ سے پہلے بھی کئی صحافی بے روزگار ہوچکے ہیں، ڈبل سواری پر پابندی برقرار رہی تو کئی اور صحافی بے روزگار ہوجائیں گے، اس پرجسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ حکومت نےتمام پرائیویٹ اداروں کوپابند کیا ہے وہ ملازمین کو نہیں نکالیں گے، ہم حکومت سے پوچھ لیتے ہیں وہ صحافیوں کو استثنیٰ دینے کے لیے کیا کرسکتی ہے، عدالت کو بتایا کہ محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے اٹھارہ اپریل کو ڈبل سواری پر پابندی کا نوٹفیکشن جاری کیا، محکمہ داخلہ نے اپنے نوٹفیکشن میں کہا کہ ڈبل سواری پرپابندی کا اطلاق صحافیوں، خواتین اور بچوں پر بھی ہوگا، عدالت کو بتایا کہ صحافی کورونا وائرس سے متعلق خبریں اور معلومات عوام تک پہنچا رہے ہیں، ڈبل سواری پر پابندی سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہورہے ہیں، عدالت سے استدعا کی گئی کہ محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے ڈبل سواری پر پابندی کا نوٹفیکشن غیر قانونی قرار دیا جائے، عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں حکومت سندھ ، محکمہ ، آئی جی سندھ ، ایڈیشنل آئی جی کراچی کو فریق بنایا گیا ہے _
صحافیوں پر ڈبل سواری کی پابندی چیلنج، حکومت سندھ کو نوٹس جاری۔۔
Facebook Comments
