aap news mulazimeen baqayajaat keliye darbadar

آپ نیوزکی بندش کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ۔۔

آپ نیوز کے ورکرز نے چینل بندش کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس میں معاونت سپریم کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کرے گی۔۔پپو نے انکشاف کیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض کی جانب سے اچانک چینل کی بندش پر لاہور کی صحافتی تنظیموں کی خاموشی پراسرار سی ہے، آپ نیوز کے ورکرز کےذہنوں میں یہ بات جڑ پکڑ چکی ہے کہ یہ صحافتی تنظیمیں ورکرزسے زیادہ سیٹھوں کے مفادات کا خیال رکھتی ہیں اور انہی کی وفادار بھی ہوتی ہیں، ان کا مقصدورکرز سے زیادہ سیٹھ کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ چینل کی بندش کو دس روز سے زائد کا عرصہ گزرچکا کسی تنظیم کو احتجاج کی توفیق نہیں ہوئی، سب نے بس کاغذوں میں مذمتی بیان جاری کرکے یہ سمجھ لیا کہ فرض ادا ہوگیا۔۔چینل کی اچانک بندش سے جہاں آپ نیوزکے سینکڑوں ورکرز شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں وہیں اب خدشات یہ بھی ہیں کہ رمضان المبارک اور عیدالفطر سر پر ہیں ،اخراجات دگنے ہوجاتے ہیں، بیروزگاری میں یہ خرچے کیسے پورے ہوں گے۔۔صحافتی تنظیموں نے لاک ڈاؤن کے دوران ورکرز کو بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے۔۔ ملک ریاض کی طرف سے ایک مکمل اور تین نصف تنخواہوں کی ادائیگی انکی مشکلات حل نہیں کرسکتی کیونکہ رمضان المبارک میں اخراجات دگنے ہوجاتے اور نصف تنخواہ سے ورکرز کا گزار ممکن نہیں صحافتی تنظیموں سے ناراض  ورکرز نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا جس میں ورکرز یہ کم از کم چھ ماہ کی مکمل تنخواہ کا مطالبہ کریں گے جس میں دو ماہ کی پیشگی اور چار ماہ کی ہر ماہ تنخواہ کے اجراء کی درخواست کی جائیگی ورکرز کو امید ہے کہ اعلی عدلیہ سے انہیں ریلیف ملیگا اور انکی بات سنی جائیگی ۔۔ پپو کا یہ بھی بتانا کہ ورکرز کے اس فیصلے پر صحافتی تنظیموں کے عہدیدار پریشان دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ اگر ورکرز خود اپنی جنگ لڑنے میں کامیاب ہوگئے انہیں حق مل گیا تو انکہ سیاست دفن ہوجائیگی۔۔جس طرح بول متاثرین نے عدالت سے اپنے واجبات حاصل کئے تھے جب کہ اس وقت یہی صحافتی تنظیمیں سیٹھ کی وفادار بن کر بول متاثرین کے خلاف مہم چلارہے تھے اور انہیں ہر طرح کے احتجاج سے بھی روک کر انہیں بول انتظامیہ سے تین ماہ کے وعدے پر سیٹلمنٹ کا مشورہ دے رہے تھے۔۔لیکن بول متاثرین نے عدالت میں جنگ لڑی اور نام نہاد صحافتی تنظیموں کی سیاست دفن کرکے اپنے واجبات حاصل کرلئے۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں