دو بڑوں کی لڑائی پروفیشنلز پر مشتمل بیورو کھا گئی۔۔ ایکسپریس نیوز کی ہائر مینجمنٹ کے آپسی جھگڑے نے پروفیشنلز کی نوکریاں کھا لیں۔ زرائع بتاتے ہیں آپریشنل مینیجر اور سی ای او نے مالک سلطان لاکھانی کو خوش کرنے کی خاطر استعفا استعفا کھیلنا شروع کر دیا ۔۔آپریشنل منیجر نے پریس سدھو پورہ میں شفٹ کروا کر مالک کو سی ای او کی موجودگی میں شکایت کی کہ میرے ڈپارٹمنٹ کے لوگ تو شفٹ ہو گئے نیوز روم والے شفٹ نہیں ہو رہے جس پر مالک کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے سی ای او نے بطور سزا پورا بیورو ہی بند کرڈالا۔۔ حالانکہ درویش صفت بیورو چیف کو مینجمنٹ نے کسی قسم کا اشارہ یا ہدایات نہیں دی تھیں کہ نیوز روم گاوں میں کب شفٹ ہو گا ، زرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ دیگر تباہ حال چینلز کی طرح ایکسپریس نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ پروفیشنلز کی بجائے اب فیصل آباد بیورو دیہاڑی داروں کے سپرد کیا جائے گا مبینہ طور پر دو لاکھ روپے ماہانہ پر ایکسپریس نیوز فیصل آباد بیورو پیراشوٹرز کو دینے کی تیاری کی جا رہی ہے ڈی ایس این جی تاحال آپریشنل حالت میں موجودہ منتظمین کے حوالہ کر دی گئی ہے زرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایکسپریس نے تمام نکالے جانے والے اسٹاف کا داخلہ نئے و پرانے دونوں دفاتر میں سختی سے ممنوع کر دیا ہے اور ادارے کی جانب سے ملازمین کے گھروں کو جانے والی اعزازی اخبار کی کاپیاں بھی روکنے کا فوری حکم جاری کر دیا گیا ہے جبکہ آپریشنل مینیجر اپنے تئیں پتہ چلانے کی کوشش میں ہیں کہ ایکسپریس نیوز کے حوالہ سے سوشل میڈیا پہ مکمل انفارمیشن کون شئیر کر رہا ہے دوسری جانب ملک کے مستند مانے جانے والے ادارے ایکسپریس نے فیصل آباد بیورو دیہاڑی داروں کو دینے کی تیاری کر رکھی ہے۔۔

