) پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے جنگ گروپ میں چھانٹیوں ، تبادلوں اور روزنامہ آواز کی بندش کے بعد اب ٹی وی چینل 92 نیوز میں پروگرام اینکرز شہرام ،کنزہ اور حسن روف سمیت متعدد ملازمین کی نوکریوں سے برخاست کرنے اور بعض ملازمین کے ساتھ ادارے کے اندر میڈیا انتظامیہ کی طرف سے تشدد کرنے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی و پنجاب حکومت سے ایسے تمام میڈیا اداروں کے اشتہارات اور ان کی ادائیگی روکنے کا مطالبہ ہے ۔ پی یوجے کے صدر نعیم حنیف ، جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی ، سئنیر نائب صدر یوسف رضا عباسی ، جوائنٹ سیکرٹری مدثر حسین تتلہ ،شیر علی خالطی ، خزانچی نسیم قریشی اور ایگزیکٹو کونسل نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ میڈیا مالکان صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی تنخواہیں سمیت دیگر قانونی حقوق ضبط کرنے کے لئے ظالموں کی ایک ہی صف کھڑے نظر آتے ہیں ۔ پی یوجے کے صدر نعیم حنیف کا کہنا تھا کہ 92 میڈیا گروپ نے کچھ عرصہ قبل روزنامہ 92 کے اندر خوفناک چھانٹیں کرتے ہوئے نہ صرف لاہور آفس سے بڑی تعداد میں ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیا بلکہ روزنامہ 92 کے مختلف شہروں میں قائم دفاتر اور بیورز بھی بند کر دئیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت حکومت وقت میڈیا مالکان کی اس ظالمانہ پالیسی کا نوٹس لیتی تو آج 92 نیوز کی انتظامیہ کو اپنے دفتر سے ملازمین کو فارغ کرنے کی جرات نہ ہوتی ۔ انہوں نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ 92 نیوز کی انتظامیہ نے اپنے دفتر کے کچھ ملازمین کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا ہے جو کہ ظلم کی ایک الگ داستان ہے۔ پی یوجے کے جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ 92 نیوز میں چھانٹیوں کا سخت نوٹس لے اور ان کے اشتہارات فوری طور پر روکے جائیں۔ انہوں نے ادارے کیں ملازمین سے تشدد اور ان کی توہین کے معاملہ پر بھی حکومت سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پی یوجے کی ایگزیکٹو کونسل نے واضح کیا کہ یونین میڈیا مالکان کے مظالم کے اس سلسلہ کے خلاف ایک بھرپور احتجاج کرے گی ۔اس حوالے سے ایسے تمام میڈیا اداروں کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
