پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے مالی سال 2024–25 کے دوران سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر موجود 88 ہزار 35 غیراخلاقی اور غیرقانونی ویب سائٹس اور یو آر ایل بلاک کر دیے۔ یہ انکشاف قومی اسمبلی کو فراہم کی گئی سرکاری دستاویزات میں کیا گیا ہے۔دستاویزات کے مطابق پی ٹی اے نے یہ کارروائیاں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 کے تحت انجام دیں، جس کا مقصد آن لائن فحش، غیر شائستہ، غیرقانونی اور ریاست مخالف مواد کی روک تھام ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام معاشرتی اقدار، قومی سلامتی اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ بلاک کیے گئے یو آر ایل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے تعلق رکھتے ہیں۔ ٹک ٹاک پر 35 ہزار 2 یو آر ایل بلاک کیے گئے، جبکہ فیس بک پر 25 ہزار 482، انسٹاگرام پر 13 ہزار 242 اور یوٹیوب پر 8 ہزار 586 لنکس بند کیے گئے۔ اس کے علاوہ دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر موجود مواد کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔پی ٹی اے حکام کے مطابق بلاک کیے گئے مواد میں زیادہ تر غیر اخلاقی ویڈیوز اور تصاویر شامل تھیں، جبکہ کچھ مواد ایسا بھی تھا جو قانون، امنِ عامہ اور قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات اور اداروں کی اپنی نگرانی کے بعد یہ اقدامات کیے گئے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال 2023–24 کے دوران ایک لاکھ 9 ہزار 771 یو آر ایل بلاک کیے گئے تھے، جبکہ رواں سال اس تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو تقریباً 20 فیصد کمی بنتی ہے۔ حکام کے مطابق یہ کمی عوامی آگاہی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ بہتر رابطہ کاری کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ غیرقانونی اور فحش مواد کے خلاف کارروائی ضروری ہے، تاہم اس عمل میں شفافیت اور آزادیٔ اظہار کے توازن کو برقرار رکھنا بھی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر واضح پالیسی اور مؤثر نگرانی وقت کی اہم ضرورت ہے۔پی ٹی اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال کریں اور کسی بھی غیرقانونی یا نامناسب مواد کی نشاندہی کے لیے متعلقہ فورمز پر شکایات درج کروائیں۔
