مریم نواز، نواز شریف کی طرح دعویٰ نہیں کرتی کام کرکے دکھاتی ہے۔یہ جمعرات کو میانوالی میں جلسے سے خطاب کے دوران مریم نواز کی تقریر کا وہ فقرہ ہے جس نے پاکستان میں سوشل میڈیا پر بحث مچا رکھی ہے۔ تقریر کا یہ حصہ وائرل ہونے کے بعد لاہور سے ایک صحافی کو ان کی بہن کے گھر سے حراست میں لے لیا گیا۔مریم نواز کی تقریر کا یہ کلپ شیئر کرنے کے بعد ہم نیوز سے وابستہ صحافی کے بقول اُنھیں جمعے کی دوپہر لاہور سے نامعلوم افراد نے حراست میں لے لیا گیا۔صحافی کو تحویل میں لیے جانے کا معاملہ جمعے کو پاکستان کے سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا رہا اور بعض صحافیوں نے صحافی کو لاپتا کرنے کا الزام پنجاب حکومت پر عائد کیا تھا۔پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمی بخاری نے ان الزامات پر کہا تھا کہ صحافی کو لاپتا نہیں کیا گیا بلکہ پیکا کے تحت فیک ویڈیو بنا کر ٹویٹ کرکے پھیلانے کے جرم میں زیر حراست ہیں۔تاہم جمعے کی شام صحافی کو رہا کر دیا گیا۔بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے صحافی خرم اقبال کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے میانوالی میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تقریر کا ایک کلپ شیئر کیا تھا، جس میں اُن کی زبان پھسل گئی تھی اور یہ ویڈیو اب بھی مسلم لیگ نواز کے سوشل میڈیا پیج پر موجود ہے۔خرم اقبال کا کہنا تھا کہ ’دوران حراست اُنھیں بار بار یہ کہا جاتا رہا کہ آپ نے ویڈیو میں ترمیم کر کے اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے، حالانکہ میں بار بار یہ کہتا رہا ہے کہ میں نے اس میں کوئی ایڈیٹنگ نہیں کی۔ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔جمعے کو حراست میں لیے جانے کی تفصیلات بتاتے ہوئے خرم اقبال کا کہنا تھا کہ وہ سالانہ چھٹیوں اور بسنت منانے کے لیے کئی روز سے لاہور کے علاقے ہربنس پورہ میں اپنی بہن کے گھر مقیم تھے۔اُن کے بقول جمعے کی دوپہر جب وہ نماز کی تیاری کر رہے تھے تو اس دوران، گھر کے باہر کچھ لوگ آئے اور اُنھیں ساتھ چلنے کا کہا۔میرا تین سال کا بیٹا میرے پیچھے بھاگا، لیکن سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگ مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے، مجھے کوئی وارنٹ نہیں دکھایا گیا اور پورے خاندان اور محلے داروں کے سامنے مجھے لے جایا گیا۔خرم اقبال نے دعویٰ کیا کہ اُنھیں تقریباً آٹھ گھنٹے تک لاہور کی سڑکوں، سی سی ڈی کے دفتر، تھانہ اقبال ٹاون اور پھر ایف آئی اے کے دفتر لے جانے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔خرم اقبال کا کہنا تھا کہ وہ سوشل میڈیا پر متحرک ہیں اور حالیہ دنوں میں اُنھوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت کے لیے کیے گئے اقدامات کی بھی تعریف کی تھی۔اُن کے بقول ’میں نے وہ شیئر کیا جو مریم نواز سے نے بولا تھا، یہ ویڈیو کلپ تیزی سے وائرل ہو گیا۔ دوران تفتیش مجھ سے کہا جاتا رہا کہ آپ نے ویڈیو میں ایڈیٹنگ کی ہے۔ میرا اصرار تھا کہ آپ اس کا فارنزک کرا لیں۔ میرے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو وہ دکھائیں۔ لیکن اس کے باوجود مجھے حراست میں رکھا گیا۔اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے جب ویڈیو شیئر کی تو اس میں لکھا تھا کہ مریم نواز کی زبان پھسل گئی۔ لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرے خلاف اتنی سی بات پر اتنی بڑی کارروائی ہو جائے گی۔خرم اقبال کو گھر سے اُٹھانے پر سوشل میڈیا پر پنجاب حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ متعدد صحافیوں نے اس کی مذمت کی ہے۔بی بی سی نے خرم اقبال کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے حوالے سے عظمیٰ بخاری سے رابطہ کیا تاہم تادمِ تحریر ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
