چیئرمین پی ٹی اے نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس میں بتایا کہ گزشتہ 5 ماہ میں 45 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں، جن پر کارروائی کرتے ہوئے پی ٹی اے نے اب تک 62 ہزار سے زائد یوٹیوب چینلز اور لنکس کو بلاک کیا ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس میں ملک میں سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد، پی ٹی اے کی کارروائیاں، مصنوعی ذہانت اے آئی کے منصوبے، اور کرپٹو کونسل کے قانونی و آئینی پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر روبینہ خالد نے کی۔کمیٹی کی چیئرپرسن نے دوران جنگ سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف پراپیگنڈے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ پی ٹی اے نے اس سلسلے میں کیا اقدامات کیے۔ چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ ادارے کو روزانہ 300 کے قریب مواد کی بندش کی درخواستیں موصول ہوتی ہیں، جن میں زیادہ تر یوٹیوب، فیس بک اور ٹک ٹاک کے خلاف ہوتی ہیں۔چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق، گزشتہ 5 ماہ میں 45 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں، جن پر کارروائی کرتے ہوئے پی ٹی اے نے اب تک 62 ہزار سے زائد یوٹیوب چینلز اور لنکس کو بلاک کیا ہے۔پی ٹی اے حکام کے مطابق یہ کارروائیاں پیکا ایکٹ 2016 کے تحت کی گئیں، اور یہ تمام مواد نفرت انگیز، مذہبی منافرت یا ریاست مخالف نوعیت کا تھا۔ مواد کی نشاندہی حکومت کے مجاز اداروں، قانون نافذ کرنے والے محکموں، مسلح افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے کی گئی۔ چیئرمین پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ انفرادی شکایات پر بھی 24 گھنٹے کے اندر ردعمل دیا جاتا ہے، تاہم یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز سیاسی نوعیت کے مواد کو ہٹانے سے انکار کر دیتے ہیں۔
