معروف سینئر صحافی مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ یوٹیوب چینلز کی عدالتی حکم کے ذریعے بندش ایک ایسی سزا ہے جو بغیر کسی انصاف کے دی جارہی ہے۔ اپنے یوٹیوب چینل پر حبیب اکرم اور ثاقب بشیر کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایف آئی اے نے اس معاملے کی انکوائری کی جس کا ہمیں بتایا نہیں گیا، پھر عدالت میں درخواست دی گئی جس کا نوٹس ہمیں نہیں ملا۔۔ پھر بغیر کسی شنوائی کے فیصلہ بھی صادر کردیاگیا، واضح رہے کہ جن ستائیس یوٹیوب چینلز کو عدالتی حکم پر بند کرنے کا حکم دیاگیا ہے ان میں مطیع اللہ جان ایم جے ٹی وی بھی شامل ہے۔اس موقع پر سینئر صحافی حبیب اکرم نے کہا کہ۔۔ آئین کی آواز اٹھاتے رہیں گے، الیکشن میں دھاندلی سے متعلق بات کرتے رہیں، ہم تو وہ ہیں جنہیں نوکری سے نکلوا دیاگیا،حبیب اکرم نے بتایا کہ بھارت کے خلاف آپریشن بیان المرصوص میں میرا چینل بھارت میں بلاک کیاگیا چلیں یہ بات تو سمجھ آتی ہے کہ وہ ہمیں اور ہم بھارت کو دشمن سمجھتے ہیں لیکن یہاں ہمارے ملک میں کون ہمیں دشمن سمجھتا ہے۔سینئر صحافی اور کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر نے بتایا کہ دو جون کو انکوائری شروع کی گئی، کسی یوٹیوبر کو نہیں بتایاگیا، پھر چوبیس جون کو عدالت میں درخواست دی گئی، جن کے خلاف درخواست دی گئی کسی کو نوٹس نہیں دیاگیا، عدالت نے بھی ان یوٹیوبرز کو نوٹس نہیں دیئے، عدالت میں کسی کو طلب نہیں کیا اور تمام کے چینلز بند کرنے کے حکم بھی دے دیا،المیہ یہ ہے کہ امریکا میں یوٹیوب کو آرڈر مل جاتا ہے لیکن یوٹیوبرزکو علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے خلاف کس عدالت نے حکم دیا ہے۔
