railway journalist card ki mayar

 44ہزارسے زائد صحافیوں کو ٹرین کے ٹکٹ پر رعایت دینے کا انکشاف۔۔

پاکستان ریلوے نے اس ہفتے قومی اسمبلی میں فراہم کی گئی معلومات کے مطابق تصدیق کی ہے کہ فی الحال کرایوں میں رعایتیں صرف صحافیوں، ان کے اہلِ خانہ اورسینئر شہریوں کو  دی جارہی ہیں۔ بیان میں رعایت سے مستفید ہونے والی کیٹیگریز اور گزشتہ برسوں میں اس کے مالی اثرات کی تفصیل شامل ہے۔وزیرِ ریلوے حنیف عباسی نے ارکانِ اسمبلی کو بتایا کہ مستند (ایکریکیٹڈ) صحافیوں کو  گرین لائن، پاکستان بزنس اور شاہ حسین ایکسپریس کے علاوہ تمام ٹرینوں میں 80 فیصد رعایت ملتی ہے، جبکہ ان کے اہلِ خانہ کو 50 فیصد رعایت دی جاتی ہے۔ وزارت نے کہا کہ یہ رعایتیں عوامی مفاد کے فرائض سرانجام دینے والے صحافیوں کی مدد کے لیے فراہم کی جارہی ہیں۔ جب کہ پینسٹھ سے پچھتر سال کے سینئر شہریوں کو اے سی کلاس میں پچیس فیص اور منتخب اکانومی ٹرینوں میں پچاس فیصد رعایت دی جاتی ہے۔ جبکہ 75 سال سے زائد عمر کے افراد کو ہر کیلنڈر سال میں ایک مفت اکانومی کلاس کا سفر فراہم کیا جاتا ہے۔دی گئی معلومات کے مطابق مالی سال 2020–21 سے 2023–25 تک مجموعی طور پر 44,587 صحافیوں نے یہ رعایتیں حاصل کیں، جس سے پاکستان ریلوے کو 96.6 ملین روپے کا خرچ برداشت کرنا پڑا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں صحافیوں کے 9,250 اہلِ خانہ نے بھی رعایتی ٹکٹ حاصل کیے جن پر 12.7 ملین روپے کی لاگت آئی۔وزارت نے زور دیا کہ یہ رعایتیں اس لیے دی جاتی ہیں تاکہ مستند صحافی اپنی عوامی مفاد کی ذمہ داریاں زیادہ مؤثر انداز میں ادا کرسکیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں