معروف یوٹیوب چینلزکی بندش۔۔واٹ نیکسٹ؟؟ 38 / 1000 Well -known YouTube channels closure

اسلام آباد کی مقامی عدالت نےنیشنل کرائم انویسٹی گیشن اتھارٹی(این سی سی اے) کی درخواست پر 27 معروف یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا حکم دے دیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے یوٹیوب چینل بلاک سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔عدالت نے صحافی مطیع اللہ جان ، اسد طور ، اوریا مقبول جان، صدیق جان سمیت 27 یوٹیوب چینل بلاک کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے 2 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ریاست مخالف مواد کے حوالے سے ایف آئی اے نے 2 جون کو انکوائری شروع کی، ایف آئی اے کی جانب سے پیش کردہ شواہد سے عدالت مطمئن ہے، قانون کے مطابق کارروائی کر سکتے ہیں۔عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ یوٹیوب کے انچارج افسر کو حکم دیا جاتا کہ ہے 27 یوٹیوب چینل بلاک کردیا جائے۔سینئر صحافی عبدالوحید مراد کے مطابق عدالت نے ایف آئی اے کے ایک تفتیشی افسر کی درخواست پر یوٹیوب کمپنی کو مطیع اللہ جان، اسد طور، حیدر مہدی، اوریا مقبول، آرزو کاظمی، صدیق جان، عمران ریاض خان، آفتاب اقبال، احمد نورانی سمیت 27 یوٹیوب چینلز بند کرنے کے لیے کہا ہے، یوٹیوب نے مذکورہ تمام چینلز کو نوٹس بھیج دیے ہیں۔عدالت کی جانب سے جاری احکامات کے بعد لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ یوٹیوب کی عدالتی فیصلوں کے حوالے سے پالیسی کیا ہے، اور اس پر عملدرآمد کیسے ہوتا ہے؟یوٹیوب آفیشل ویب سائٹ کے مطابق کمپنی مختلف نوعیت کے عدالتی احکامات کا بغور جائزہ لیتی ہے اور صرف قانونی، درست اور قابل اطلاق احکامات پر ہی عمل کرتی ہے۔ اگر کوئی عدالتی حکم کمپنی پر براہِ راست عملدرآمد کی ذمہ داری عائد کرتا ہے تو اس کی قانونی حیثیت اور کمپنی کی ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے، اور اگر ضروری ہو تو اس حکم کے خلاف اپیل پر بھی غور کیا جاتا ہے۔کمپنی نے کہا ہے کہ وہ بعض اوقات ان عدالتی احکامات پر بھی رضاکارانہ طور پر عمل کرتی ہے جو براہِ راست گوگل پر لاگو نہیں ہوتے، لیکن مقامی عدالتوں کے اس اختیار کو تسلیم کرتی ہے کہ وہ کسی مواد کو مقامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دے سکتی ہیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ بعض اوقات ایسے عدالتی احکامات جو مواد کو براہِ راست غیر قانونی قرار نہیں دیتے، وہ بھی کمپنی کے لیے کسی مواد کو ہٹانے کے فیصلے میں معاون ثابت ہوتے ہیں، خاص طور پر اگر کسی عدالت نے مواد کو جھوٹا قرار دیا ہو۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں