12 صحافیوں کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج۔۔۔

مبینہ جعلی مقابلے کیخلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران عدالتی طلبی پر پیشی کے لئے آئے ایس ایس پی سعود مگسی سے صحافیوں کی جانب سے سوال کرنا سنگین جرم بن گیا ایس ایس پی نے 12 صحافیوں پر دہشتگردی کا پرچہ کٹوادیا۔صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ دادو پولیس کا یہ اقدام ناں صرف صحافت دشمن ہے بلکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے منشور اور سندھ حکومت کی پالیسیوں کے بھی سنگین منافی ہے۔چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سے سندھ کے صحافیوں کی اپیل ہے کہ سعود مگسی کو فوری طور پر ایس ایس پی دادو کے عہدے سے ہٹاکر انہیں صوبہ بدر کرنے کے لئے انکی خدمات وفاق کے سپردی کی جائیں انہیں کوئٹہ بھیجا جائے جہاں جاکر وہ فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان کیخلاف اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور قابلیت دکھائیں قلمکاروں، مظلوم عوام اور حق سچ کی آواز صحافیوں پر زور آزمائی کرنا آسان ہے لیکن دادو اور سیہون کے صحافی باوجود دہشتگردی جیسے سنگین نوعیت کے مقدمے میں نامزدگی کے باوجود حق سچ کا علم تھامے رکھیں گے۔انہوں نے کمیشن فار پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پریکٹیشنرز سندھ سے مطالبہ ہے کہ وزیر اعلی سندھ کے حلقے انتخاب اور اس سے جڑے صحافیوں پر درج سنگین نوعیت کے مقدمے کا نوٹس لیکر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو سے اچھی ساکھ افسران کی ٹیم تشکیل دیکر اسکی شفاف تحقیقات کروائی جائے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں