radio pakistan ke pensioners ka ahtejaaji muzahira

یہ ریڈیو پاکستان ہے۔۔

تحریر: روہیل اکبر۔۔

سعید احمد شیخ اس وقت ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹرجنرل ہیں جنہوں نے ریڈیوکوایک نئی زندگی دی ریڈیو پاکستان نہ صرف پہچان ہے بلکہ ہماری شناخت بھی ہے ریڈیو پاکستان نے اس قوم کی کتنی صبحیں جگائیں اور کتنی شامیں سنواریں ریڈیو کی آواز میں ایک عجب جادو ہے جو دیکھائی نہیں دیتی مگر دل کے اندر اْتر جاتی ہے پاکستان کی تاریخ بھی اسی آواز سے شروع ہوتی ہے 14 اگست 1947 کی وہ رات جب دنیا سو رہی تھی ریڈیو لاہور کے اسٹوڈیو میں چند چراغ روشن تھے کچھ نوجوان براڈکاسٹرز کی دھڑکنیں تیز تھیں اور پھر وہ لمحہ آیارات کے ٹھیک 12 بج کر 5 منٹ پر ایک آواز اْبھری جس نے پوری قوم کے مقدر کی تشکیل کردی”یہ ریڈیو پاکستان ہے”یہ صرف جملہ نہ تھا یہ اعلانِ حریت تھا ایک نئی ریاست کی سانس لینے کی پہلی آواز تھی یہ صرف ایک اعلان نہ تھا یہ نئی قوم کی شناخت، نئی ریاست کی روح اور نئی نسل کا یقین تھا کہ اب ہماری کہانی ہم خود سنائیں گے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد لاہور، پشاور اور ڈھاکہ کے پرانے آل انڈیا ریڈیو اسٹیشنز کو عارضی طور پر ریڈیو پاکستان میں شامل کیا گیا عمارتیں کمزور، آلات ناکافی، عملہ محدود مگر جذبہ بے پناہ ریڈیو کے کمرے میں بیٹھے وہ نوجوان براڈکاسٹرز شاید اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کے بولے گئے الفاظ آنے والی نسلوں کی تاریخ کا سرمایہ بن جائیں گے یہ وہ زمانہ تھا جب گھر میں ریڈیو چلتا تو در و دیوار جیسے سنجیدہ ہو جاتے تھے خبریں آئیں تو خاموشی چھا جاتی موسیقی چلتی تو ماحول مہک جاتا اور ڈرامہ نشر ہوتا تو گھروں کے اندر کردار زندہ ہو جاتے تھے قیامِ پاکستان کے بعد آلات کم تھے وسائل نہ ہونے کے برابر تھے مگر جذبہ بے مثال تھے ریڈیو پاکستان کا ایک زمانہ وہ بھی تھا جب گھر میں ریڈیو چل رہا ہوتا تو گلی کے لوگ تک سننے آ جاتے رضیہ بھٹی، گھمن، آغا ناصر، شوکت تھانوی، اور ممتاز مفتی جیسے ناموں نے وہ تخلیقی ورثہ چھوڑا جو آج بھی معیار سمجھا جاتا ہے پاکستان ٹیلی ویڑن شروع ہونے سے پہلے ریڈیو ہی وہ اکیڈمی تھا جس نے ملک کو بڑے لکھاری، گلوکار، گویے اور صداکار فراہم کیے ریڈیو پاکستان صرف ادارہ نہیں، ایک ”ایکیڈمی“ تھی جہاں پڑھایا نہیں جاتا تھا بلکہ سکھایا جاتا تھا آواز کو سنوارنا، جملے کو وزن دینا، وقفوں کا احترام، خبروں کی سنجیدگی اور لفظوں کی  حرمت یہ سب ریڈیو ہی سے ملا پاکستان کے بے شمار جرنلسٹس، نیوز اینکرز، صداکار اور گلوکار آج بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے فن کی پہلی درسگاہ ریڈیو پاکستان تھا وقت بدلا ٹی وی آیا  پھر ایف ایم چینلز، پھر سوشل میڈیا بدقسمتی یہ رہی کہ ریڈیو پاکستان انتظامی مسائل، سیاسی مداخلت اور ٹیکنالوجی کی کمی کا شکار ہوتا گیا جہاں دنیا ڈیجیٹل براڈکاسٹ، اسمارٹ ایپلی کیشنز، اور انٹرنیٹ ریڈیو کی طرف گامزن تھی  وہاں ہم پرانے آلات کے سہارے ماضی کے زروں کو سنبھالنے میں لگے رہے مگر اس کے باوجود ریڈیو کی آواز کبھی بند نہیں ہوئی آج بھی ریڈیو پاکستان کا نیٹ ورک ملک کے دورافتادہ علاقوں تک پہنچتا ہے وہ علاقے جہاں موبائل سگنلز تک ساتھ نہیں دیتے وہاں ریڈیو پاکستان کی آواز ہی ریاست کی موجودگی کا احساس دلاتی ہے ریڈیو پاکستان کے وہ ابتدائی اسٹیشن دراصل اس قوم کے پہلے دعویدار تھے کہ یہ ملک صرف نقشے پر نہیں بلکہ آواز میں بھی زندہ ہے پشاور سے ڈھاکہ تک لاہور سے کراچی تک ریڈیو پاکستان وہ دریا تھا جو پورے ملک کی روح میں بہتا تھا آج بھی جب کوئی پرانا جنگی نغمہ چلتا ہے تو وقت رک سا جاتا ہے ملکہ ترنم نورجہاں کی وہ آوازیں وہ ترنم وہ جذبہ آج بھی مورچوں میں بیٹھے جوانوں کا حوصلہ بڑھا رہا ہے جنگیں ہوں یا بحران، ریڈیو پاکستان ہمیشہ فرنٹ لائن پر رہا اس ادارے نے صرف خبریں نہیں سنائیں یہ عوام اور ریاست کے درمیان ایک ایسا پل ثابت ہوا جو کبھی منہدم نہیں ہوا ریڈیو پاکستان ایک درسگاہ تھاجہاں آواز سنواری جاتی تھی لفظ ناپ تول کر بولنا سکھایا جاتا تھا  وقفوں کی توقیر اور خبر کی حرمت کا درس دیا جاتا تھا بڑے لکھاری، بڑے گلوکار، بڑے صداکار سب اسی اکیڈمی سے نکلے آج بھی پاکستان کے بڑے نام یہ اعتراف کرتے نہیں تھکتے کہ ان کا پہلا استاد ریڈیو تھا انسان نہیں جو ایک ادارہ تھا وقت کا پہیہ تھما نہیں کرتا دنیا آگے بڑھتی رہی اور ہم کہیں رک گئے ٹی وی، ایف ایم چینلز، ڈیجیٹل دنیا اور ریڈیو پاکستان اپنی عظیم روایات کے باوجود انتظامی مسائل اور زبوں حالی کے گرداب میں جا پھنسا عمارتیں بوڑھی ہوئیں، مشینیں خاموش ہوئیں اور وہ آوازیں جو کبھی دلوں کو روشن کرتی تھیں ریکارڈنگ میں محفوظ ہوگئی ان حالات میں لوگ اکثر سوچتے ہیں کہ کیا ریڈیو پاکستان ختم ہو گیا؟ہرگز نہیں آج بھی اس ادارے کی نشریات وہاں پہنچتی ہیں جہاں موبائل سگنل بھی ساتھ نہیں دیتے بلوچستان، سندھ کے ریگزاروں، خیبر پختونخوا کے پہاڑوں اور پنجاب کے دیہات میں ریڈیو کی آواز ریاست کی موجودگی کا احساس دلاتی ہے یہ واحد ادارہ ہے جو آج بھی پاکستان کی اصل جغرافیائی اور تہذیبی دھڑکن کو ایک ساتھ باندھے بیٹھا ہے ریڈیو پاکستان کا سفر محض 77 برسوں کی تاریخ نہیں یہ اس قوم کی اجتماعی یادداشت ہے یہ ہماری ثقافت کی آواز ہے ہماری زبان کی تربیت ہے ہماری شناخت کا روشن چراغ ہے ریڈیو پاکستان اْس آواز کا نام ہے جو وقت بدلنے کے باوجود دبی نہیں،مٹی نہیں اور بدلی بھی نہیں یہ وہ آواز ہے جو خاموش ہونے کے باوجود زندہ رہتی ہے جو دکھائی نہ دے کر بھی دل پر نقش چھوڑ جاتی ہے میرے نزدیک ریڈیو پاکستان کا سفر ابھی جاری ہے جب تک اس ملک میں ایک ایسی نسل موجود ہے جو آواز کو صرف سْنا نہیں کرتی بلکہ محسوس بھی کرتی ہے ریڈیو پاکستان کا سفر کبھی ختم نہیں ہوگابلکہ مزید توانا اور طاقتور ہوگا کیونکہ اس ادارے کی باگ دوڑسعید احمد شیخ جیسے جرات مندڈی جی کے ہاتھ میں ہے جو آوازوں کے امین اورروایت کے محافظ ہیں کیونکہ ریڈیو پاکستان محض ایک ادارہ نہیں، ایک عہد کی علامت ہے۔ یہ وہ درسگاہ ہے جہاں آوازیں جنم لیتی ہیں، لہجے پروان چڑھتے ہیں، اور قوم کی تاریخ صدا کے روپ میں محفوظ ہوتی رہتی ہے۔ اسی عظیم ادارے کے سربراہ کے طور پر ڈی جی ریڈیو پاکستان شیخ سعید آج بھی اپنے پیشہ ورانہ وقار، تہذیب اور شائستگی سے اس روایتی ورثے کو آگے بڑھا رہے ہیں شیخ سعید کی شخصیت کی سب سے نمایاں خوبی اْن کی خاموش کام کرنے والی قیادت ہے۔ وہ شور شرابے کے بغیر کام کرنے اور نتائج سے اپنی موجودگی ثابت کرنے کے قائل ہیں۔ نرم گفتاری، باوقار اندازِ گفتگو اور دوسروں کو عزت دینے کا سلیقہ انہیں اْن سرکاری افسران سے ممتاز کرتا ہے جو عہدوں سے زیادہ اپنے رویوں سے پہچانے جاتے ہیں ریڈیو پاکستان جیسے وسیع ادارے کو سنبھالنا آسان نہیں۔ سینکڑوں اسٹیشنز، ہزاروں اہلکار، تکنیکی چیلنجز، مالی مشکلات، اور ساتھ ہی وہ تاریخی ذمہ داری کہ یہ ادارہ اپنی ساکھ برقرار رکھے۔ لیکن شیخ سعید نے ثابت کیا کہ صحیح سمت میں نیت اور مستقل مزاجی ہو تو کم وسائل میں بھی بڑے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں اْن کی قیادت میں ریڈیو پاکستان نے تکنیکی ترقی کی طرف نئے سفر کا آغاز کیاانہوں نے پرانے اسٹیشنوں کی تجدید و بحالی پر خصوصی توجہ دی پروگرامنگ کے معیار کو پروفیشنل بنیادوں پر ازسرِنو تشکیل دیا نوجوان براڈکاسٹرز کے لیے نئی راہیں اور تربیت کے مواقع بڑھائے ریڈیو کی کلاسیکی روایت شستہ زبان، مہذب مکالمہ اور معیاری پروگرامنگ کو برقرار رکھاشیخ سعید کی پیشہ ورانہ زندگی کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ وہ ادارے کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں سینئر سے لیکر جونئیر تک ہر شخص یہ اعتراف کرتا ہے کہ ڈی جی صاحب کی وجہ سے ادارے میں اعتماد، احترام اور ٹیم ورک کی فضا قائم ہوئی ہے وہ اْس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے سرکاری سروس کو انا کا مظاہرہ بنانے کے بجائے ایک ذمہ داری سمجھا اسی لیے وہ ہر ایک کی بات پوری توجہ سے سنتے، اختلاف کو وقار کے ساتھ قبول کرتے اور فیصلے ادارے کی بہتری کے لیے کرتے ہیں آج جب میڈیا کا منظرنامہ مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو چکا ہے ریڈیو کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں شیخ سعید کی دوراندیشی نظر آتی ہے انہوں نے روایتی ریڈیو کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے اْن کا وژن ہے کہ ریڈیو اپنی اصل روح کے ساتھ آگے بڑھے سچ، سادگی اور معیاری اظہارانکا خاصہ ہے شیخ سعید  ایک خوبصورت شخصیت، باوقار منتظم اور ریڈیو کی آوازوں کے حقیقی امین تو ہیں ہی ساتھ میں وہ ملنسار اورملنے والوں کو عزت دیتے ہیں بات سن کر رائے دیتے ہیں اور ہر شخص کے احترام کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں ایسے لوگ محض افسر نہیں ہوتے ادارے کے لیے نعمت ثابت ہوتے ہیں ریڈیو پاکستان کا سفر طویل ہے مگر آج بھی اس سفر میں اعتماد کی سب سے مضبوط آواز ڈی جی شیخ سعید کی ہے اْن کی قیادت میں یہ تاریخی ادارہ نہ صرف اپنی کلاسیکی شان برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ آنے والے وقتوں کے لیے بھی نئی سمتیں دریافت کر رہا ہے شیخ صاحب کی قیادت میں اب ریڈیو نے ڈیجیٹل اسٹریمنگ، یوٹیوب چینلز، پوڈکاسٹ اور سوشل میڈیا تک قدم بڑھا دیے ہیں اگر جدید ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کو مواقع دیے جائیں تو ریڈیو پاکستان دوبارہ وہی مقام حاصل کر سکتا ہے جو کبھی دلوں کا مرکز تھا جب تک ملک میں لفظ، آواز اور امید زندہ ہے تب تک ریڈیو پاکستان کی صدا گونجتی رہے گی۔(روہیل اکبر)

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں