یوٹیوب اور الگورتھم

تحریر: عقیل انجم اعوان۔۔۔

یہ 2022 کی بات ہے جب مجھے اپنے ایک مخلص دوست اور معروف موٹی ویشنل اسپیکر علی عباس کا فون آیا۔ علی عباس نہ صرف ایک شاندار مقرر ہیں بلکہ دوسروں کے لیے وہ رہنما بھی ہیں جو ہاتھ پکڑ کر نیچے والوں کو اوپر لے جاتے ہیں۔ انہوں نے بڑے خلوص سے کہا عقیل! تمہیں اپنا یوٹیوب چینل بنانا چاہیےتمہاری گفتگو، انداز اور سوچ میں وہ بات ہے جو لوگوں کے دلوں تک پہنچ سکتی ہے۔ میں نے ان کے مشورے کو دل سے قبول کیا اور ’’عقیل انجم آفیشل‘‘ کے نام سے اپنا یوٹیوب چینل بنا ڈالا۔

شروع میں ایک لڑکا میرے ساتھ تھا جو کیمرا مین بھی تھا اور ایڈیٹر (این ایل ای) بھی۔ ہم نے مختلف شخصیات کے انٹرویوز شروع کیے۔ موضوعات زندگی کے مختلف پہلوؤں کو چھوتے تھے کامیابی، حوصلہ، قربانی اور جدوجہد جیسے مضامین پر گفتگو ہوتی۔ ابتدا کے بیس دن بہت مشکل تھے۔ نہ ویوز آ رہے تھے نہ سبسکرائبرز بڑھ رہے تھے۔ مگر میں نے ہار نہ مانی۔ میں نے وقت نکال کر یوٹیوب کے الگورتھم کو سمجھنے کی کوشش کی یعنی وہ نظام جو طے کرتا ہے کہ کس ویڈیو کو آگے بڑھانا ہے اور کس کو پس منظر میں رکھنا ہے۔

یوٹیوب کا الگورتھم بنیادی طور پر ناظرین کے رویے کو دیکھتا ہے۔ کون سی ویڈیو زیادہ دیر تک دیکھی جاتی ہے لوگ کہاں کلک کرتے ہیں کن ویڈیوز پر تبصرے اور لائکس زیادہ آتے ہیں اور کون سی ویڈیوز ناظرین کو مزید مواد دیکھنے پر مجبور کرتی ہیں۔ میں نے اپنی ویڈیوز کو انہی اصولوں کے مطابق ڈھالنا شروع کیا۔ میں نے ٹائٹل بہتر بنائے، تھمب نیل دلچسپ رکھے، ویڈیو کے پہلے پچیس سیکنڈ کو زیادہ پراثر بنایا تاکہ ناظرین دلچسپی کے ساتھ آخر تک دیکھیں۔ میں نے تبصرے پڑھنے اور ان کے مطابق بہتری لانے کی عادت ڈال لی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صرف دو ماہ کے اندر میرا چینل مونیٹائز ہو گیا۔

اس کامیابی نے مجھے یہ احساس دلایا کہ یوٹیوب صرف ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کا نہیں بلکہ ایک سائنسی اور فکری عمل ہے۔ اگر آپ ناظرین کے ذہن کو سمجھ جائیں تو کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے۔ مگر پھر چھے ماہ بعد میں نے چینل بند کر دیا وجوہات اپنی جگہ مگر اس تجربے نے مجھے ایک قیمتی سبق سکھایا۔

میں نے دیکھا کہ اکثر لوگ بڑی ٹیمیں بنا کر بھاری سرمایہ لگا کر کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔ مگر ان میں سے زیادہ تر ناکام ہو جاتے ہیں کیونکہ جہاں ٹیم بڑی ہوتی ہے وہاں اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بڑی ٹیم میں اکثر وہ لوگ شامل ہو جاتے ہیں جو کام کم اور چاپلوسی زیادہ کرتے ہیں۔ وہ مالک کے اردگرد گھومتے ہیں غلط فیصلوں کی تعریف کرتے ہیں اور انجام کار نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ اصل کامیابی چھوٹی مگر مخلص ٹیم سے آتی ہے۔ ایسے لوگ جو دل سے کام کرتے ہیں اور مقصد کو سمجھتے ہیں وہ کم وسائل کے باوجود بڑے نتائج دیتے ہیں۔

آخر میں یہی بات کہوم گا کہ کامیابی کے لیے بڑے بجٹ یا بڑی ٹیم کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ سچی نیت، مسلسل سیکھنے کا جذبہ اور محنت ہی اصل سرمایہ ہے یوٹیوب ہو یا زندگی کا کوئی اور میدان الگورتھم  انھیں  کامیاب کرتا ہے جو سچائی لگن اور تسلسل سے کام کرے۔(عقیل انجم اعوان)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں