phase two ka ifteta marium nawaz khud karen

گورننگ باڈی کے ووٹ اتنے زیادہ کیوں مسترد ہوئے۔۔

تحریر: محمد عبداللہ

یقیناً انتخابات میں چند ووٹوں کا مسترد ہو جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں، مگر جب 2160 میں سے 579 ووٹ محض ایک تکنیکی غلطی کی نذر ہو جائیں تو سوالات جنم لینا فطری ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شور، الزامات اور جشن ایک ساتھ دکھائی دینے لگتے ہیں ہارنے والے فارم 45 اور مختلف تاویلات کی بات کرتے ہیں، جبکہ جیتنے والے خاموش مسکراہٹ کے ساتھ فتح کا اعلان کرتے ہیں۔

لیکن اگر جذبات سے ہٹ کر حقیقت کو دیکھا جائے تو کہانی خاصی سادہ ہے۔

لاہور پریس کلب کے سالانہ انتخابات میں گورننگ باڈی کے لیے 10 امیدواروں کا انتخاب ہونا تھا، جبکہ اس بار میدان میں 23 امیدوار موجود تھے۔ مقابلہ جرنلسٹ گروپ اور گرینڈ الائنس کے درمیان تھا۔ روایت کے مطابق دونوں گروپوں نے اپنے اپنے امیدواروں کے نام اور سیریل نمبرز پر مشتمل پمفلٹس شائع کروائے، جو ووٹ ڈالنے سے قبل ووٹرز کو دیے گئے۔

کچھ دوست ناموں سے پہلے ہی واقف تھے، انہیں کسی رہنمائی کی ضرورت نہ پڑی، مگر اکثریت نے انہی پمفلٹس کو بنیاد بنا کر اپنے ووٹ کاسٹ کیے تاکہ اپنے پینل کے تمام امیدواروں کو درست طور پر ووٹ دیا جا سکے۔

اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں ایک چھوٹی سی مگر مہنگی غلطی سرزد ہو گئی۔

گرینڈ الائنس کے پمفلٹ میں 9 یا 10 کے بجائے 11 امیدواروں کے نام درج ہو گئے۔ نتیجتاً جس جس ووٹر نے اس پمفلٹ پر درج تمام ناموں کے مطابق بیلٹ پیپر پر 11 افراد کو ووٹ دے دیا، اُس کا ووٹ قواعد کے مطابق مسترد ہو گیا۔

یوں کسی سازش، فارم 45 یا انتظامی بدنیتی کے بغیر، محض ایک پرنٹنگ غلطی نے سینکڑوں ووٹ ضائع کر دیے۔

اصل سبق یہی ہے کہ انتخابات میں صرف نعرے اور جذبات نہیں، تنظیمی نظم، تکنیکی درستگی اور معمولی تفصیلات پر توجہ ہی اصل کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔بعض اوقات شکست کا سبب مخالف کی طاقت نہیں، اپنی ایک چھوٹی سی کوتاہی ہوتی ہےاور یہی اس انتخابی داستان کی اصل حقیقت ہے۔( محمد عبداللہ)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں