زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح صحافت کے شعبے میں بھی خواتین کا فعال کردار صحت مند معاشرے کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کررہا ہے اور اس سے بہت سے مسائل کو درست انداز میں اجاگر کرنے میں مدد مل رہی ہے، اس لئے صحافت کے شعبے میں صنفی تفریق ختم کی جائے، ان خیالات کااظہار سیکرٹری پریس کلب سہیل افضل خان نے کے یوجے دستور کے زیراہتمام خواتین ممبرز کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں کیا۔ کے یو جے دستور کے سیکرٹری ریحان چشتی نے کہا کہ خواتین صحافت کے ہر شعبے میں نمایاں کردار ادا کررہی ہیں جو انتہائی خوش آئند بات ہے، انہوں نے کہا کہ کے یو جے دستور کا مطالبہ ہے کہ خواتین صحافیوں کو بھی مرد صحافیوں کے مساوی تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، تقریب میں کے یوجے دستور کی گورننگ باڈی کی رکن انعم رزاق ،خدیجہ راٹھور ، رضیہ سلطانہ، حمیرااطہر، فہمیدہ یوسفی، شیما صدیقی، کلثوم جہاں،بشری خالد،ماریہ اسماعیل، غزالہ عزیز، ثنا غوری، ارم ناز، نازش ایاز، عائشہ رشید،شہلا محمود ، شہربانو، بلقیس جہاں، نصرت زہرا، فوزیہ چاند نواب سمیت خواتین ارکان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری کے یو جے دستور ریحان خان چشتی نے بتایا کہ بیشتر میڈیا اداروں میں خواتین صحافیوں کے کام کا ماحول بہت سازگار ہے اور اسی ماحول کی سبب خواتین صحافی ان اداروں میں اپنے فرائض منصبی کو بخوبی انجام دیتی ہیں ، انہوں نے کہا کہ کے یو جے دستور ہمیشہ سے اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ خواتین صحافی کسی بھی میڈیا ادارے یا صحافتی تنظیم کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، اور ان کی فلاح و بہبود کے بغیر صحافت کے معیار کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کے یو جے دستور ہمیشہ اپنی خواتین ممبران کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرے گی۔ ریحان چشتی نے خواتین صحافیوں کی استعداد کار میں اضافے کیلئے جلد خصوصی ورکشاپس اور ٹریننگ سیشنز کرانے کا بھی اعلان کیا۔ تقریب میں سینئر صحافی رضیہ سلطانہ کے جنم دن کی مناسبت سے کیک بھی کاٹا گیا ، اس موقع پرشعبہ صحافت سے وابستہ خواتین کی خدمات کو سراہا گیا اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی تجاویزبھی پیش کی گئیں۔۔
