پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے صدر شمیم شاہد اور سیکرٹری جنرل راجہ ریاض نے خیبر پختونخوا حکومت کے مزدوروں اور ملازمین کے لئے ماہانہ کم از کم اجرت 40 ہزار روپیہ مقرر کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ھوئے وزیر اعلی سردار علی امین خان گنڈاپور سے اس فیصلے کا اطلاق اخبارات ۔ نجی ٹی ویژن اور دیگر ذرائع ابلاغ میں کرنے کی اپیل کی ھے۔۔ پی ایف یو جے ورکرز کے مرکزی عہدیداروں نے جاری کردہ بیان میں کہا ھے کہ اس وقت خیبر پختونخوا کے بہت سے مقامی اور قومی اخبارات میں فرائض سر انجام دینے والے صحافیوں اور کارکنوں کی اجرتیں روزانہ کی بنیاد پر تعمیراتی منصوبوں۔ دکانوں اور دیگر تجارتی مراکز میں کام کرنے والے مزدوروں سے بھی کم ھے جبکہ ان اخبارات اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کو حکومت آور حکومتی اداروں سے ملنے والی اشتہارات اور مراعات کا حجم بہت زیادہ ھے ۔ ارب پتی بننے والے اخباری مالکان اب اخبارات اور نجی ٹی وی چینلز کے علاوہ دیگر صنعتوں اور تجارتی کاروبار سے منسلک ھو رھے ھیں۔ کل کے بیروزگار اور کنگال اخبارات کے مالکان اب ارب پتی صنعتکار بن گئے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلی علی امین گنڈاپور سے اپیل کی کہ وہ اخبارات کو سرکاری خزانے سے اشتہارات کی مد میں ادا کی جانے والی رقوم اور ان اخبارات میں کارکنوں سے لی جانے والی بیگار کے بارے میں فوری تحقیقات کا حکم دے ۔ جو جو اخبارات خیبر پختونخوا کے مقرر شدہ کم از کم اجرت کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کر رھا انکی ڈیکلریشن فوری طور پر منسوخ کیا جا ئے ۔ انہوں نے کہا کہ یہی۔وقت ھے کہ اخبارات کو اشتہارات کی اجراء اور ادائیگی کو کم از کم اجرت سے مشروط کیا جائے ۔
