تحریر: شمعون عرشمان۔۔
پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نجی ٹی وی چینلز نے تیزی سے ترقی کی۔ ایک طرف میڈیا نے عوامی شعور اجاگر کیا، تو دوسری طرف درجنوں چینلز نے اشتہارات، بریکنگ نیوز اور ریٹنگ کی دوڑ میں خود کو “کاروبار” بنا لیا۔
اب سوال یہ ہے: کیا پاکستان میں ٹی وی چینلز کا بزنس ماڈل واقعی شاندار ہے؟
بزنس ماڈل کی بنیاد: اشتہارات پر انحصار
پاکستان میں بیشتر ٹی وی چینلز کا بزنس ماڈل مکمل طور پر اشتہارات پر مبنی ہے۔
حکومتی اشتہارات، پرائیویٹ کمپنیز، ملٹی نیشنل برانڈز، اور مختلف اسپانسرشپ چینلز کی آمدن کا بڑا ذریعہ ہیں۔ اس ماڈل میں ریٹنگ، عوامی دلچسپی اور تیزی سب سے اہم عناصر ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ:
“خبر سے زیادہ اہم ہے کہ وہ کتنی بکتی ہے!”
ریٹنگ کا جنون، مواد کا زوال
ریٹنگ (TRP) ایک ایسا زہریلا ہتھیار بن چکی ہے جو چینلز کو صحافتی اقدار سے ہٹاکر سنسی خیز اور غیر سنجیدہ مواد کی طرف لے جاتی ہے۔ اس ماڈل میں وہی مواد کامیاب سمجھا جاتا ہے جو:
خوف پھیلائے
جذبات بھڑکائے
یا سیاست دانوں کی لڑائی دکھائے
یہ رجحان نہ صرف ناظرین کو گمراہ کرتا ہے بلکہ تحقیقی صحافت، تعلیمی مواد، اور اصلاحی پروگرامز کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔
مالی خودمختاری یا سیاسی وابستگی؟
چونکہ چینلز کی آمدن کا بڑا حصہ حکومت اور بڑی کارپوریشنز سے آتا ہے، اس لیے مالیاتی خودمختاری اکثر متاثر ہوتی ہے۔
جب اشتہارات کے بجٹ پر حکومتی اداروں کا کنٹرول ہو، تو چینلز خود کو “ادارتی آزادی” سے محروم محسوس کرتے ہیں۔ نتیجہ؟
حکومتی تنقید کم
اپوزیشن پر سختی
طاقتور اداروں پر خاموشی
یہ توازن بگڑتا جا رہا ہے، جس سے بزنس ماڈل کی صحافتی ساکھ کمزور ہو رہی ہے۔
لاگت زیادہ، منافع کم
بہت سے چینلز بظاہر کامیاب دکھائی دیتے ہیں، لیکن اندرونی طور پر مالی بحران کا شکار ہیں۔
وجوہات میں شامل ہیں:
مہنگے سیٹ، اسٹوڈیو اور عملہ
نیوز رومز کا 24/7 آپریشن
کمزور مارکیٹ اور محدود اسپانسرز
اسی وجہ سے کئی چینلز وقتاً فوقتاً بند ہوتے ہیں یا تنخواہیں روک دیتے ہیں۔
تفریح بمقابلہ معلومات
پاکستانی میڈیا کا بزنس ماڈل رفتہ رفتہ صحافت سے ہٹ کر تفریح، مارننگ شوز، رئیلٹی شوز اور ڈرامہ نما نیوز پر منتقل ہو چکا ہے۔
کیونکہ یہی مواد ریٹنگ لاتا ہے۔ یوں صحافتی مشن کمزور، اور کاروباری مفاد غالب آ جاتا ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا: بزنس ماڈل کا نیا چیلنج
ڈیجیٹل میڈیا کی تیز رفتار ترقی نے ٹی وی چینلز کے بزنس ماڈل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
یوٹیوب، فیس بک، اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کم لاگت میں زیادہ ناظرین تک پہنچنے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔
بہت سے ٹی وی چینلز اب ڈیجیٹل پر بھی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، لیکن اشتہارات کی تقسیم میں انہیں ڈیجیٹل انفلوئنسرز سے سخت مقابلہ درپیش ہے۔
بزنس ماڈل کی کامیابی کی چند مثالیں
کچھ چینلز نے اپنی واضح شناخت اور مواد کی بنیاد پر کامیاب بزنس ماڈل اپنایا ہے۔ ان میں شامل ہیں:
وہ چینلز جو مخصوص ناظرین (niche) پر فوکس کرتے ہیں
تحقیقی رپورٹنگ اور دستاویزی پروگرامز کے ذریعے اسپانسرشپ حاصل کرتے ہیں
یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے اضافی آمدن پیدا کرتے ہیں
نتیجہ: بزنس ماڈل “کارآمد” ہے، لیکن “شاندار” نہیں
پاکستان میں ٹی وی چینلز کا بزنس ماڈل کارآمد ضرور ہے کیونکہ اس نے روزگار، تفریح اور معلومات کے دروازے کھولے۔
لیکن یہ ماڈل شاندار اس لیے نہیں کہ:
اس میں صحافت کے بنیادی اصول اکثر قربان ہوتے ہیں
مارکیٹ پر چند بڑے اسپانسرز کی اجارہ داری ہے
اور آزادیِ اظہار کو بزنس مفادات کی نظر کر دیا جاتا ہے
اختتامیہ
پاکستانی میڈیا کو اگر واقعی “شاندار بزنس ماڈل” کی طرف جانا ہے تو اسے اعتماد، معیار اور ادارتی خودمختاری کو بزنس کا حصہ بنانا ہوگا۔
ورنہ ہر چینل صرف ایک “شور مچاتی اسکرین” بن کر رہ جائے گا، جس میں صحافت کم، اور تجارتی نفع زیادہ نظر آئے گا۔(شمعون عرشمان)
