کوئٹہ پریس کلب میں پولیس گردی،صحافیوں کو ہراساں کیاگیا۔۔

کوئٹہ پریس کلب اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی قیادت کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں دو مارچ کو بی وائے سی کی جانب سے ہونے والے میڈیا ٹاک کے دوران کوئٹہ پریس کلب میں پولیس کی بے جا مداخلت کا جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کئے گئے۔ قیادت نے میڈیا ٹاک کے دوران پولیس کی جانب سے پریس کلب کے اندر داخل ہوکر صحافیوں کو کوریج سے روکنے اور ہراساں کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اور اس عمل کو آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے پر قدغن قرار دیا ہے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ پریس کلب میں پریس کانفرنس یا میڈیا ٹاک کرنا ہر شہری کا حق ہے۔  دنیا میں کہیں بھی پریس کلب کے اندر پولیس کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی کی اجازت نہیں۔  اس سے قبل بھی کوئٹہ پریس کلب کو تالے لگائے گئے جس پر سخت لائحہ عمل اپناتے ہوتے شدید احتجاج کیا گیا جووزیراعلی بلوچستان کی جانب سے میڑھ اور دوبارہ ایسا واقعہ نہ ہونے کی یقین دہانی پر ختم ہوا۔ ایک مرتبہ پھر پولیس کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب میں پولیس اہلکاروں کا داخل ہونا، بی وائی سی کے میڈیا ٹاک کی کوریج کرنے والے صحافیوں روکنا اور ہراساں کرنا تشویشناک اور ناقابل برداشت ہے۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے کوئٹہ پریس کلب اور بی یو جے قیادت نے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، آئی جی پولیس بلوچستان سے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ کوئٹہ پریس کلب اور بی یو جے قیادت نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے حکومت اس قسم کی بے جا مداخلت کو روکنے اور پریس کلب کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے۔ پریس کلب اور بی یو جے قیادت جلد اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں