پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے کوئٹہ پریس کلب میں پولیس کے زبردستی داخلے اور صحافیوں کو بی وائے سی کی پریس کانفرنس کی کوریج سے روکنے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور اسے آزادی صحافت پر سنگین حملہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی بلوچستان سردار سرفراز بگٹی سے ذمہ داری پولیس حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ پی یوجے کے صدر نعیم حنیف ،جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی ،سینئر نائب صدر خرم پاشا ، نائب صدر شیر علی خالطی ، جوائنٹ سیکرٹری خالد رشید ، طلال اشتیاق ، خزانچی جواد حسن گل اور ایگزیکٹو کونسل نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی مسئلہ کا حل اسے زور زبردستی دبانے اور طاقت کا استعمال کرنے سے نہیں بلکہ اس مسئلہ کو سننے ، سمجھنے اور پھر حل کے لئے مل بیٹھ کر مشاورت سے کیا جاتا ہے مگر یہاں پولیس اور سیکورٹی ادارے ہر مسئلہ کو طاقت ، لاٹھی ، گولی سے حل کرنے کی کوشش میں ہیں ۔ پی یوجے کے صدر نعیم حنیف نے کہا کہ کوئٹہ پریس کلب میں پولیس پہلی مرتبہ داخل نہیں ہوئی ، گزشتہ سال بھی پولیس نے پریس کلب پر دھاوا بولا تھا۔ اب پھر پولیس نے پریس کلب میں جاری پریس کانفرنس کو زبردستی روکنے اور صحافیوں کو کوریج سے روکنے کی کوشش کی ہے جو آزادی صحافت پر حملہ ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کو اگر پریس کانفرنس کرنے والے افراد مطلوب بھی تھے تو پولیس پریس کانفرنس کے بعد انہیں گرفتار کر سکتی تھی مگر اس طرح پریس کانفرس کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو حراساں کرنا شرمناک ہے ۔ پی یوجے کے جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی نے کہا کہ اس معاملہ پر کوئٹہ پریس کلب اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس حوالے سے بی یوجے اور کوئٹہ پریس کلب کی قیادت کو بھی فیصلہ کرئے اور پی ایف یوجے کی طرف سے جو بھی ملک گیر احتجاج کی کال دی جائے گی پنجاب یونین آف جرنلسٹس اس احتجاج میں بھرپور شرکت کرئے گی ۔ پی یوجے کی ایگزیکٹو کونسل نے وزیر اعلی سرفراز بگٹی سے اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کےلئے اقدامات کرنے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیاہے۔
