تحریر: احسا ن کوہاٹی۔۔
جب آپ میڈیا کنٹرول کر لیتے ہو تو افواہیں دندناتی پھرتی ہیں، صورتحال مزید تشویشناک ہوجاتی ہے،سوشل میڈیا کے ہوتے ہوئے نیوز چینلز اخبارات اور معتبر نیوز ایجنسیز کو جب لگام ڈالیں گے تو ہونے والے نقصان کے زمہ دار بھی آپ ہی ہوں گے ایک میڈیا ہاؤس سے جڑا صحافی ہنگامہ آرائی کے دوران، ریسکیو ادارے،عینی شاہدین،پولیس اور اسپتال سے کنفرمیشن کے بعد ہی زخمیوں اور جان بحق افراد کی تعداد رپورٹ کرتا ہے جب آپ میڈیا ہاؤسز کے گلے میں پھندا اتنا کس دیتے ہیں کہ وہ سڑکوں پر احتجاج کرنے والی جماعت کا نام لینے کے بجائے “ایک مذہبی جماعت” کہنے تک محدود رہتا ہے تو آپ سچ روک کربھیانک جھوٹ کو پروٹوکول دے رہے ہوتے ہو، کس چغد کو نہیں معلوم کہ مریدکے میں لبیک والے احتجاج کر رہے ہیں، آپ نے بے تکے انداز سے آپریشن کیا اور نون لیگ کو ایک حقیقی اپوزیشن کا تحفہ دے دیا….. َسوشل میڈیا پر کوئی دو سو افراد کے جاں بحق ہونے کا دعوے دار ہے تو کوئی تین سو کا….جس کے منہ جو آرہا ہے وہ بیانیہ بنا رہا ہے ایک بے چینی تشویش ہے جو بڑھتی جارہی ہے اعتماد ختم ہو رہا ہے اب میڈیا سچ بھی کہے تو لوگ نہیں مانتے سرکار تو اک عرصہ ہوا اعتماد کھو بیٹھی۔
ہم دہائیوں سے ایسی ہی حرکتوں سے امن و امان کا الو سیدھا کرتے آ رہے ہیں، موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی……سے لے کر موبائل فون سروس کی بندش تک….. سستے طریقے اپنا کر عوام کے طنز اور پھبتیوں کے حقدار ٹھہرتے ہیں امن و امان کی صورتحال جتنی پہلے خراب تھی اس سے زیادہ آج ہے عمران خان کے نام لینے پر پابندی لگائیں گے تو لوگ کپتان اور بانی کہہ کر کام چلائیں گے اور چلا رہے ہیں، اب ایک مذہبی جماعت والا سلسلہ نکال دیا ہےخدارا بھونڈے انداز سے سچویشن ہینڈل نہ کریں گئیر پھنس گیا تو گاڑی نے ہلنا بھی نہیں ہے(احسان کوہاٹی)۔۔
